تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 92
۹۲ ، وه فوراً انصار اللہ کا اجلاس طلب کریں اور عہد یداروں کا انتخاب کر کے میرے سامنے پیش کریں۔اتین ماہ کے عرصہ میں خدام سے انصار اللہ میں جاکر ناصر احمد نے بھی کوئی کام نہیں کیا معلوم ہوتا ہے وہاں کی ہوا لگ گئی ہے ، اور پھر میرا مشورو ٹ کر انھیں از سر نو تنظم کریں پھر خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کی طرح انصار اللہ کا بھی سالانہ اجتماع کریں، لیکن ان کا انتظام اور قسم کا ہوگا۔اس اجتماع میں کھیلوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔کبڈی اور دوسری کھیل میں ہوتی ہیں۔انصار اللہ کے اجتماع میں درس القرآن کی طرف زیادہ توجہ دی جائے اور زیادہ وقت تعلیم و تدریس پر صرف کیا جائے یہ مندرجہ بالا اعلان کے بموجب تنظیم انصار اللہ کی قیادت کا کام حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے کے سپرد ہوا۔اس سے قبل حضرت صاجزادہ صاحب موصوف ایک لیے عرصہ تک مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر اور نائب صدر رہے تھے اور انہیں مجالس چلانے کا وسیع تجربہ تھا۔خدا تعالیٰ نے انھیں قیادت اور تقسیم کی غیر معمولی صلاحیتیں بخشی تھیں۔انصار اللہ کی قیادت آپ کے سپرد کرنے سے حضرت امیر المومنین کا یہی منشاء مبارک تھا کہ اس تنظیم کو بھی خدام الاحمدیہ کی طرح فعال بنایا جائے اور اس میں زندگی کی نئی روح پھونکی جائے۔یہ انتخاب اس تنظیم کے حق میں غایت درجہ مفید اور بابرکت ثابت ہوا اور بہت جلد ایسا معلوم ہونے لگا کہ انصار اللہ بوڑھوں کی نہیں بلکہ نوجوانوں کی تنظیم ہے۔آپ کے نائب صدر مقرر ہونے پر آپ کے ایک پڑانے رفیق کار محمد احمد حیدر آبادی نے ازراہ تفنن آپ کو مخاطب کر کے کہا۔میاں صاحب اب آپ بھی بوڑھے ہو گئے ہیں۔آپ نے برجستہ جواب دیا " میں بوڑھا نہیں ہوا بلکہ انصار اللہ جوان ہو گئی ہے۔یہ جواب جہاں موقعہ کے لحاظ سے نہایت لطیف تھا وہاں حقیقت سے بھی بہت قریب تھا، ایک دنیا نے دیکھا کہ جو تنظیم اس سے قبل محض برائے نام تھی اور واقعی بوڑھوں کی چال چل رہی تھی اس میں زندگی کی ایک نئی روح پھونکی گئی اور اسے ایک نئی منزل نظر آنے لگی، کاموں میں تیزی ولولہ اور جوش پیدا ہوگیا اور ہرشعبہ میں نمایاں حرکت اور ترقی محسوس ہونے لگی۔سالانہ اجتماعات کا انعقاد تقریر کے بعد سب سے پہلے آپ کی توجہ مبس کے سالانہ اجتماعات منعقد کرنے اور ان کو مفید اور موثر بنانے کی طرف مبذول ہوئی چنانچہ ماہ ظہور / اگست پیش میں ہی یہ طے کر لیا گیا کہ پہلا سالانہ اجتماع دوروز یعنی ۲۹۷۸ راخاء +1900