تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 91
91 آٹھواں باب مجلدانصار اللہ کا چوتھا دور ماه افتاد راکتور سایش تک حضرت صاحبزادہ مرزا عزیزا محمد صاحب مجلس انصاراللہ کے صدر رہے۔۱۹۵۴ ما دور نبوت کو تومیر کے پہلے ہفتہ میں حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس تنظیم کی قیادت ۱۳۳۳ بیش ۱۹۵۴ء میں تبدیلی کرنا مناسب سمجھا، چنانچہ مورخہ کے رنبوت کا تو میں اس کو خدام الاحمدیہ کے جو جو میں سالانہ اجتماع " کے موقعہ پر حضور نے فرمایا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ناصر احمد آب انصار اللہ میں پہلے گئے ہیں، ان کے متعلق میں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ انصار اللہ کے مت ہوں گے۔اگر چہ میرا حکم ڈکٹیٹر شپ کی طرز کا ہے، لیکن اس ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے ہی تمہارا کام اس حد تک پہنچا ہے ورنہ تمہارا حال بھی صدر انجمین احمدیہ کی طرح ہی ہوتا۔میں مجلس خدام الاحمدیہ کے باب میں ڈکٹیٹر شپ استعمال بارہ نہ کر تا تو تمہارا بھی یہی حال ہوتا۔نوجوانوں کوئیں نے پکڑ لیا اور انصار اللہ کو یہ مجھے کر کر دہ بزرگ میں ان میں سے بعض میرے اساتذہ بھی ہیں چھوڑ دیا ، لیکن اب تم دیکھتے ہو کہ خوردبین سے بھی کوئی انصار اللہ کا ممبر نظر نہیں آتا۔نہیں ناصر احمد کوئیں انصار اللہ کا صدر مقرر کرتا ہوں۔لة الفضل اور تبلیغ و فروری امین سے اس سے قبل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب مجلس تعدام الاحمدیہ کے نائب صدر تھے۔11۔سے حضور نے صدر" کا لفظ استعمال فرمایا۔حضور کا اصل منشا نائب صدر یا فعال قائد کہنے کا تھا کیونکہ میں انصار اللہ کے صدر اس زمازمیں حضور خود تھے۔