تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 82
ئی نہیں کی پریڈ یونٹ کے احکام کی پیروی نعدام انصار کے لیے کے احکام مقامی المین ضروری ہے تخدام کو خدام کا زعیم مخاطب کر سکتا ہے اور انصار کو انصار کا زعیم مخاطب کر سکتا ہے مگر چونکہ لوکل انہیں ان دونوں پر مشتمل ہوتی ہے انصار بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اور خدام بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اس لیے گو وہ بحیثیت جماعت خدام اور انصارکو کوئی حکم نہ دے سکے گردہ ہر خادم اور انصار اللہ کے ہر عمر کو ایک احمدی کی حیثیت سے بلا سکتا ہے اور خدام اور انصار دونوں کا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کریں۔۔۔خدام الاحمدیہ اور انصار ات کو دو علیحدہ علیحدہ وجود نہیں بنایا گیا بلکہ ایک کام اور ایک مقصد کے لیے ان کے سپرد دو علیحدہ علیحدہ فرائض کئے گئے ہیں اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گھر میں سے کسی کے سپرد خدمت کا کوئی کام کر دیا جاتا ہے اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کا کوئی مستقل وجود گھر میں پیدا ہوگیا ہے، بلکہ وہ بھی جانتا ہے اور دوسرے لوگ بھی جانتے ہیں کہ وہ گھر کا ایک حصہ ہے۔کام کو عمدگی سے چلانے کے لیے اس کے سپر د کوئی ڈیوٹی کی گئی ہے۔اسی طرح خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں مقامی انجمن کے بازو ہیں اور مشخص کو خواه و ه خدام الاحمدیہ میں شامل ہو یا انصار اللہ میں اپنے آپ کو محلہ کی یا اپنے شہر کی یا اپنے ضلع کی انجمن کا ایک فرد سمجھنا چاہیئے ، میں نے بتایا ہے کہ جب اختلاف ہو اس وقت پریذیڈنٹ پر اختلاف کو دور کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اگر ضلع میں جھگڑا ہو توضلع کے پریزیڈینٹ کا اشہری جھگڑا ہو تو شہر کے پریذیڈنٹ کا کا فرض ہے کہ وہ دونوں فریق کو جمع کریں اور ان کے شکوے شنکر پا رہی اصلاح کی کوشش کریں اور اگر اس سے اصلاح نہ ہو سکے تو رہ لوکل انجین کے سامنے معاملہ رکھیں پھر لوکل انجین کا فرض ہے کہ وہ لوکل مجلس انصار اللہ اور وکل میں خدام الاحمدیہ کا ایک ایک نمائندہ بلوائے اور اس طرح ملا کر جھگڑے کو دور کرنے کی کوشش کرے اور در حقیقت ہماری فرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے قیام سے یہ ہے کہ جماعت کو ترقی حاصل ہو یہ فرض نہیں کہ تفرقہ اور شقاق پیدا ہو۔