تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 61 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 61

41 اس دور سے تعلق یہ امر قابل ذکر ہے کہ فتح دسمبر میشی تک بیر نجات ۱۹۴۵ تعداد مجالس بیرون میں ہم و مجالس قائم ہوئی جن میں سے ۱۷۵ شہری تھیں اور ۱۳۹۳ دبیاتی تقسیم ملک کے وقت تک اس تعداد میں کس قدر اضافہ ہوا اس بارے میں مرکزی ریکارڈ اور الفضل دونوں سے کوئی راہنمائی نہیں ملتی، در حقیقت اُس زمانہ کے حالات ہی کچھ اس قسم کے تھے کہ ذیلی تنظیموں کے کام ثانوی حیثیت رکھتے تھے اس لیے ریکارڈ کی تکمیل اور تفصیل کا کما حقہ، انصرام نہ ہو سکا۔نومبر سے ایک انصار اللہ کے اجلاس میں کوئی عہد نہیں انصار اللہ کا ابتدائی عمد دہرایا جاتا تھا۔۳۰ نبوت کر نومبر ۳۲۳ ہش کے ماہانہ اجلاس میں قائد عمومی مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے یہ تجویز پیش کی کہ انصار اللہ کے جلسوں میں عمد وہرانے کا طریق رائج کیا جائے اور اس غرض کے لیے وہ الفاظ مقرر کئے جائیں جو حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے جلسہ جو بلی کے موقعہ پر لوائے احمدیت بھراتے وقت بطور عمد مقرر فرمائے تھے۔اس تجویز کو منظور کر لیا گیا اور اسی اجلاس میں پہلی مرتبہ یہ عمد دہرایا گیا۔عید کے الفاظ یہ تھے۔یلیں اقرارہ کرتا ہوں کہ جہانتک میری طاقت اور سمجھ ہے اسلام اور احمدیت کے قیام ، اس کی مضبوطی اور اس کی اشاعت کے لیے آخر دم تک کوشش کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس امر کے لیے ہر ممکن قربانی پیش کرونگا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے سب دینوں اور مسلسلوں پر غالب رہے اور اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ ہو بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اونچا اڑتا رہے۔اللهم آمین اللهم آمين - اللهم آمین۔ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم - ط الفصل ١٠ جنوری ١٩٢٦ء سر ریکارڈ مجلس مرکزیہ