تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 37
وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں، ان کے لیے بھی لازمی ہوگا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لیے وقف کریں ، اگر منا سب سمجھا گیا تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں تین دن با کم و بیش اکٹھے بھی لیے جاسکتے میں گھر چترال تمام بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کا بغیر استثنا کے قادیان میں منظم ہو جانا لازمی ہے۔مجلس انصار اللہ کے عارضی پریزیڈنٹ مولوی شیر علی صاحب ہوں گے اور سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے کے لیے میں مولوی عبدالرحیم صاحب درد چوہدری فتح محمد صاحب اور خانصاب مولوی فرزند علی صاحب کو مقر کرتا ہوں ، تین سیکر ٹری میں نے اس لیے مقرر کئے ہیں کہ مختلف محلوں میں کام کرنے کے لیے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے، ان کو فوراً قادیان کے مختلف حصوں میں اپنے آدمی بیٹھا دینے چاہئیں اور چالیس سال سے اوپر عمر رکھنے والے تمام لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا چاہیئے۔یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ لوگوں کو کس قسم کے کام میں سہولت ہو سکتی ہے اور جو شخص جس کام کے لیے موزوں ہو اس کے لیے اس سے نصف گھنٹہ روزانہ کام کیا جائے یہ نصف گھنٹہ کم سے کم وقت ہے اور ضرورت پر اس سے زیادہ بھی وقت لیا جا سکتا ہے یا بیہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ کسی سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے سینے میں دو چار دن کے لیے جائیں جس دن وہ اپنے آپ کو منظم کرلیں اس دن میری منظوری سے نیا پریذیڈنٹ اور نیا سیکرٹری مقرر کئے جاسکتے ہیں۔سردست میں نے جن لوگوں کو اس کام کے لیے مقرر کیا ہے وہ عارضی انتظام ہے اور اس وقت تک کے لیے ہے جب تک لوگ منظم نہ ہو جائیں، جب منظم ہو جائیں تو وہ چاہیں تو کسی اور کو پریزیڈنٹ اور سیکرٹری بنا سکتے میں گھر میری منظور ی اس کے لیے ضروری ہوگی۔میرا ان دونوں مجلسوں سے اخدام الاحمدیہ اور انصار اللہ۔ناقل) ایسا ہی تعلق ہو گیا جیسے مرتب کا تعلق ہوتا ہے اور ان کے کام کی آخری نگرانی میرے ذمہ ہوگی یا جو بھی خلیفہ وقت ہو، میرا اختیار ہو گا کہ جب میں مناسب سمجھوں ان دونوں مجلسوں کا اجلاس اپنی صدارت میں بلالوں اور اپنی موجودگی میں ان کو اپنا اجلاس منعقد کرنے کے لیے کہوں ، یہ اعلان پہلے صرف قادیان والوں کے لیے ہے اس لیے ان کو میں پھر ایک باز تنبیہ کرتا ہوں کہ کوئی فرد اپنی مرضی سے ان مجالس سے باہر نہیں رہ سکتا سوائے اس کے جو اپنی مرضی سے نہیں چھوڑ کر الگ