تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 36
مسائل کو حل کیا جو وقتی اور فوری طور پر توجہ طلب تھے اور جو بیرونی ملے مختلف جہات سے جو رہے تھے ان کا سد باب کیا، پھر جماعت کی اندرونی تنظیم اس طرح کی کہ سارا کام نہایت خوش اسلوبی اور عمدگی سے چلنے لگا ان امور سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے جماعت میں نیکی اور تقویٰ اور ایثار و قربانی کی روح کو قائم رکھتے کے لیے ذیلی تنظیموں کے قیام کی طرف توجہ فرمائی، پہلے لجنہ اماءاللہ کا قیام عمل میں آیا پھر نوجوانوں اور بچوں کی اصلاح کی غرض سے خدام الاحمدیہ اور الطفال احمدیہ کی تنظیمیں قائم ہیں اور سب کے آخر میں اگست نار میں انصار اللہ کی تنظیم قائم کی۔حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اور جولائی نام 14 مجلس انصار اللہ کا قیام کو خطبہ جمعہ میں اس مجلس کے قیام کا اعلان فرمایا اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کو پریزیڈنٹ اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اسے چو ہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے اور خانصاب مولوی فرزند علی صاحب کے سیکرٹری نامزد فرمایا اور انہیں ہدایت کی کہ قادیان میں جو احمدی بھی چالیس سال سے زائد عمر کے ہیں انھیں فوراً اس تنظیم میں شامل کیا جائے ان کے لیے مجلس میں شمولیت لازمی رکھی گئی تاکہ قادیان میں رہنے والے سب افراد پوری طرح منظم ہو جائیں، البتہ بیرونی جماعتوں میں اس عمر کے افراد کی مجلس میں شمولیت کو طوعی رکھا گیا گھر یہ پابندی ضرور لگا دی گئی کہ کوئی شخص امیر یا پریزیڈنٹ یا سیکرٹری نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ کسی ذیلی تنظیم یعنی خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کا میر نہ ہو۔اس ہدایت کا منشار یہ تھا کہ اس تنظیم کی اہمیت بیرونی جماعتوں پر بھی واضح ہو جائے اور وہ بھی جلد سے جلد اس تنظیم کو اپنی اپنی جگہ پر مکمل کر نہیں ، اس بارے میں جو خطبہ حضور نے ۲۶ جولائی لاء کو ارشاد فرمایا اس کے ضروری اقبا سات درج ذیل ہیں۔جماعت احمدیہ قادیان کی تنظیم میں سمجھتا ہوں کا ہم کی ذمہ داری صرف پندرہ سے چالیس سال کی عمر والوں پر ہی نہیں بلکہ اس سے اوپر اور نیچے والوں پر بھی ہے۔۔۔اسی طرح چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے له اخبار الفضل یکم اگست نامه