تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 296
۲۹۴ یتیم بچوں کی دینی تعلیم کے لئے نصاب مقرر کرنے پر بھی ضرور ہوا اور طے پایا کہ مجلس مرکز یہ نے بنیادی معلومات کا جو کتا بچہ قیادت تعلیم کے تحت شائع کیا ہے وہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے۔جہاں ضرورت ہو یہ کیا بچہ متعلقہ مجلس کو ارسال کر دیا جائے۔مالی امداد سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا اور مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ تیائی اور بیوگان کی مناسب امداد کا انتظام مرکزہ سلسلہ میں پہلے سے ہی موجود ہے اس لئے کسی نئی تحریک کی ضرورت نہیں البتہ مقامی صدقات وغیرہ کی درسے کی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تیاطی سے متعلق مطلوبہ کوائف جمع کرنے کے لئے جو پیر و فار ما بنایا گیا ہے وہ ناظمین اضلاع کو بھی ارسال کیا جائے اور انھیں توجہ دلائی جائے کہ وہ اپنی نظامت کے تحت مجالس کا جائزہ لے کر کو الف کی فراہمی میں مرکنہ کا ہاتھ بٹائیں۔اس وقت تک ۱۳۴ ایسی مجالس کی طرف سے کو الف موصول ہو چکے ہیں جہاں تمامی موجود ہیں؟ لیکن یہ کام مسلسل بعد و جہد اور بڑی توجہ چاہتا ہے۔مجلس کی جانب سے پہلے قدم کے طور پر ضروری کو اٹف جمع کرنے کی مہم جاری ہے۔جو کوائف موصول ہوئے ہیں انہیں ایک رجسٹر میں محفوظ رکھا جا رہا ہے۔امید ہے کہ اس سمت میں مزید پیشرفت جاری رہے گی۔اس وقت مجلس کے سامنے بینائی کے تربیتی و تعلیمی امور نیز ان کی اخلاقی نگرانی کا کام خاص اہمیت رکھتا ہے اور اس جانب پوری توجہ مبذول ہے۔اسلامی معاشرہ کا قیام اس دور میں یہ بات ہر طرف سے سننے میں آرہی ہے کہ نظام مصطفے قائم ہونا چاہیے اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل عمل میں آنی چاہیے۔لیکن اسلامی معاشرہ کا واضح تصویر اور اس کے قیام کی معین اور صحیح صورت کم ہی سامنے آتی ہے۔زیادہ تر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جرائم کے انسداد کے سلسلہ میں جو تعزیری قوانین اسلام نے مقرر کئے ہیں ان کے نفاد سے اسلامی معاشرہ معرض وجود میں آ جائے گا۔اس بارے میں بطور رہنمائی صدر مجلس نے مرکزی سالانہ اجتماعات کے موقعہ پر تقاریہ کا یہ سلسلہ شروع کیا تا کہ اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا سکے۔