تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 295 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 295

۲۹۳ اندانہ میں اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ تیا ئی معاشرہ کا ایک ایسا حصہ ہے جن کی مناسب نگہداشت الله تعالے کی رضا حاصل کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔عموماً یتیم بچے بے سہارا رہ جانے کی وجہ سے مناسب تعلیم و تربیت سے محروم رہ جاتے ہیں اور بڑے ماحول میں پڑ کر نہ صرف اپنی زندگیاں برباد کرتے ہیں بلکہ معاشرہ میں خرابی اور الحسن پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔جماعت احمدیہ کے افراد ارشادات خداوندی اور ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقفیت کے باعث اکثر و بیشتر اپنے ماحول میں یتامی کی پرورش کا خیال رکھتے ہیں تاہم صدر مجلس کے دل میں زور سے یہ تحریک ہوئی کہ اراکین انصار الله اگر منظم طریق پر اپنی کوششوں کو بروئے کار لائیں تو انسانیت کی بڑی خدمت ہوگی اور ہم بہتر رنگ میں اس فرض کو ادا کر سکیں گے۔چنانچہ آپ نے قائد ایثار کو اپنے منشا سے آگاہ کر کے یہ ہدایت دی کہ وہ مجالس سے رابطہ قائم کر کے بینائی کے بارے میں ضروری کوائف جمع کریں۔اس غرض کے لئے ایک پروفاریا تیارہ کر کے مجالس کو ارسال کیا گیا اور انھیں ہدایت کی گئی کہ تیاطی سے متعلق ضروری کو الف مرکز کو بھجوائے جائیں۔م بعد انہاں آپ نے مرکزی مجلس عالمہ میں اس مسئلہ کو پیش کیا۔تبادلہ خیال کے بعد فیصلہ ہوا کہ متعلقہ امور کو طے کرنے کے لئے ایک سب کمیٹی بنادی جائے جو اس اہم مسئلہ کے سب پہلوؤں کا جائزہ لے کر طریق کار تجویز کرے۔چنانچہ مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نائب صدر قائمقام کر اور یہ قائد اشیار، قائد تعلیم اور سیکرٹری صدر پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے غور کے بعد یہ تجویز کیا کہ : انہ ہر جگہ تائی کی اخلاقی، دینی اور تعلیمی امور کی نگرانی کے لئے مناسب افراد بطور گارڈین مقرر کئے جائیں۔واہت میں الفضل داہنامہ انصار اللہ میں اس تحریک کی اہمیت کے بارے میں مضامین شائع کرائے جائیں۔- قائدین اور انسپکڑان اپنے دوروں میں بالخصوص اجتماعات کے موقعوں پر اس کی اہمیت واضح کریں اور جائزہ لیں کہ کیا کام کیا جا رہا ہے اور یہ بھی دیکھیں کہ یتیم بچے اپنی عمر کے لحاظ سے متعلقہ تنظیموں کے پروگراموں میں حصہ لے رہے ہیں یا نہیں۔