تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 290
اس کے علاوہ مجلس کا ایک ناہنا مہ ہے جو اعلیٰ پایہ کے مضامین پر مشتمل ہے اور نہایت با قاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔اس کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے مجلس کو گرانقدر مالی امداد دینا پڑتی ہے۔سہ ماہی امتحانات کا سلسلہ جاری ہے۔مختلف اضلاع میں تربیتی اجتماعات ہوتے ہیں اور پھر مرکز میں جو سالانہ اجتماع ہوتا ہے اس میں شامل ہونے والا ہر فرد اپنے آپ کو ایک روحانی ماحول میں پانا ہے اور علماء سلسلہ کی بلند پایہ تقاریر کے علاوہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیر کے روح پرور مواعظ سے مستفیض ہو کر لوٹتا ہے۔یہ تمام جد و جہد اسی صورت میں جاری رہ سکتی اور ترقی کرسکتی ہے کہ ملبس کی مالی حالت بہتر ہو۔میں نے محسوس کیا ہے کہ اس وقت مجلس کی مالی حالت اس قدر کمزور ہے کہ اسے بہتر بنانے کی ابھی سے کوشش نہ کی گئی تو ہم اپنی ذمہ داریوں کو شاید کما حقہ ادا نہ کرسکیں گے نیز اس تحریک کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مجلس کے پاس کچھ رقم بطور ریز رو فنڈ کے ہونی چاہئیے۔تاکہ بعض نامساعد حالات میں بھی محلیس کے کاموں پر برا اثر نہ پڑے۔چنانچہ اس چیز کے پیش نظر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے مخلص اور مختبر انصار بھائیوں میں سے چند ایک کو یہ تحریک کردوں کہ وہ تحریک خاص انصار اللہ ہی کم ازکم یکصد روپے جلد ادا کریں۔یہ دوسرے چندوں کے علاوہ رقم ہو گی۔آپ کو بھی اسی مرض اور الفین کے ساتھ یہ تحریک بھجوا رہا ہوں کہ آپ اس میں ضرور شرکت فرمائیں گے اور مجھے جواب سے ممنون فرمائیں گئے۔اللہ تعالے نے اس تحریک میں بے حد برکت بخشی۔دوستوں نے دل کھول کر عطایا بجھوائے اور تھوڑی سی مدت میں ایک معقول رقم اس مد میں جمع ہو گئی۔انصار کے اس فراخدلانہ تعاون کے باعث مالی پوزیشن خد العالے کے فضل سے کافی حد تک مضبوط ہو گئی۔یہ اسی کی برکت ہے کہ الفہ بہرواٹر میں جب مجلس شوری کی سفارش پرسید نا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہ ارشاد امیرال فرمایا کہ انصار اللہ فورا گاڑی خرید سے تو اس کلہ سے استفادہ کیا گیا اور فوری طور پر نور کے ارشاد کی تعمیل ہو گئی۔۱۳۵۲ -4 گیسٹ ہاؤس انصار الله: ۳۵ مین میں حضرت امیرالمومنین خلیفة المسح الشالات