تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 273
کا بندوبست کر دیا ہے۔نبی یا مصلح دنیا میں آکر لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاتا ہے۔چنا نچہ اس کی آواز پر صرف وہی رو میں لبیک کہتی ہیں جو مادہ ہر کو مغلوب کر کے مادہ غیر کے تابع ہو جاتی ہیں۔اس زمانہ میں جبکہ دنیا اپنی گمراہی اور ضلالت کی انتہا تک پہنچ چکی ہے اس الرحم الراحمین خدا نے ہم پر اپنا فضل فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو اس دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا اور ہم کو اس خدائی آواز پر لبیک کہنے کی توفیق دی۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہو گئی اور وہ ہے اس خدائی آوازہ کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلا کہ نبی نوع انسان کو حلقہ بگوش اسلام بنانے کی ذمہ داری۔اس ذمہ داری کی ادائیگی اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ ہم ہر حال میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عزم کر لیں مال و دولت کی محبت، اولاد سے پیار، دنیا کی بے جام آرام طلبی، جھگڑے اور فساد اس راہ میں مسائل ہوں گے اور چاہیں گے کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دیں مگر آپ ان چیزوں کو ہر گنہ خاطر میں نہ لائیں اور اپنے اس عہد کو پورا کریں جو بیعت کے وقت آپ نے کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔" دیکھو دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک تو وہ بو اسلام قبول کر کے دنیا کے کار دبانہ اور تر تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔شیطان ان کے سر پہ سوار ہو جاتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے۔نہیں۔صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔انھوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو پریہ کہ دور سے انھوں نے حاصل کیا یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگن گائے۔کوئی امران کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا۔میرا مطلب اس سے صرف یہ ہے کہ جو بالکل دنیا ہی کے بندے اور غلام ہو جاتے ہیں گویا دنیا کے پرستار ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں پر شیطان اپنا قلبہ اور قابو پالیتا ہے دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی ترقی کی فکر میں ہو جاتے ہیں۔یہ وہ گروہ ہوتا ہے جو حزب اللہ کہلاتا ہے۔اور جو شیطان اور اس کے شکر پر فتح پاتا ہے۔مال چونکہ تجارت سے بڑھتا ہے اس لئے خدا تعالے نے بھی طلب دین اور ترقی دین کی خواہش کو ایک تجارت ہی قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے، حل اد لكم على تجارة تنجيكم من عذاب اليمر۔سب سے عمدہ تجارت دین کی ہے، مسجد دردناک مذاب سے نجات دیتی ہے۔پس میں بھی خدا تعالے کے ان ہی الفاظ میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ بھلی اور کمر عسلی تجارة تنجيكم من عذاب اليمن الحکم 16 جولائی سہ)