تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 208
۲۰۷ قائم رہتا ہے۔حضرت امیرالمومنین کے افتضائی اور اختتامی خطابات کے علاوہ صدر محترم وقتاً فوقتاً دوران کارروائی اپنے خیالات کا اظہار فرماتے رہتے ہیں اور بطور خاص آخری اجلاس میں کسی علمی یا ز بیتی موضوع پر خطاب فرماتے ہیں۔اس کے علاوہ قرآن کریم ، احادیث اور ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درس ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ، صحابہ کرام کی سوانح نیز علمی اور تربیتی موضوعات پر علماء سد کی تقاریر ہوتی ہیں ، پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضور کی سیرت اور زندگی کے چیدہ چیدہ چشم دید حالات بیان کرتے ہیں جو نہایت درجہ ایمان افروز ہوتے ہیں اور بڑی توجہ اور ذوق وشوق سے سنے جاتے ہیں، علماء سلسلہ کے علاوہ بیرونی مجالس کے بعض نمائندگان کو بھی وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کے اظہار کا موقعہ ملتا رہتا ہے پھر مجلس مرکز یہ کے تمام قائدین باری باری اپنی کارگزاری کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہیں اور بیرونی مجالس کے سہ کاموں پر تبصرہ کرتے ہیں اس طرح یہ معلوم ہوتا رہتا ہے کہ مجلس اپنے مقررہ پروگرام کو کس حد تک پورا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔اجتماع کی کارروائی کا ایک اہم حصہ مجلس شوری کا انعقاد ہوتا ہے جس میں ایجنڈا میں شامل تجاویز پر صرف نمائندگان کو اظہار رائے کا موقعہ دیا جاتا ہے، لیکن زائرین بھی اس کارروائی میں سامع کی حیثیت سے شریک رہتے ہیں۔ہر مسئلہ پر نمائندگان کھل کر اور تفصیل سے اظہار رائے کرتے ہیں۔اس کے بعد کثرت رائے سے فیصلے ہوتے ہیں۔یہ فیصلے بطور مشورہ کے ہوتے ہیں اور حضرت امیر المومنین کی خدمت میں توثیق کے لیے پیش کئے جاتے ہیں ، حضور کی منظوری کے بعد ان پر عمل شروع ہو جاتا ہے۔اجتماع کی کارروائی کا ایک اور دلچسپ پہلو سوال و جواب کا سلسلہ ہوتا ہے۔حاضرین کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ جو چاہیں سوال کریں۔یہ سوالات تحریری طور پر پیش کئے جاتے ہیں اور صدر مجلس کے پاس بھیجوا دیئے جاتے ہیں صدر محترم عموماً تین علماء کونا مزد کر دیتے میں جو تمام سوالات کا حسب موقعہ جواب دیتے ہیں۔آغا نہ کا ر میں ہی یہ وضاحت کر دی جاتی ہے کہ سوالات صرف علمی اور دینی مسائل سے متعلق ہوں۔سیاسی اور ملکی مسائل پر سوال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔سوال و جواب کا یہ طریق تربیت اور تعلیم کا نہایت عمدہ ذریعہ ثابت ہوا ہے۔علمی وتربیتی موضوعات پر تقاریر کے علاوہ بعض دفعہ مبلغین کو موقعہ دیا جاتا ہے کہ وہ قبولیت دعا کی ذاتی مثالیں پیش کریں ، یہ چیز بھی از دیارو ایمان کا موجب ہوتی ہے اور جہاں ان مثالوں سے مبلغین کرام کی