تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 20 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 20

T و ہوگڑی، مولوی غلام رسول صاحب را جنگی حال مبارک منزل لاہور ، منشی محمد ظہیر الدین صاحب کلرک سرکل i آفس نہر اپر چناب لاہور ، محمد حسین صاحب ظفروال رسید نذیر حسین صاحب گھٹیالیاں ، پیر برکت علی حب رنمل ، مولوی عبد القادر صاحب کو دھیانہ ، میاں نعمت اللہ صاحب کرام ، میاں عنایت اللہ صاحب چو به سند هوای ، چوہدری غلام احمد صاحب کر یام ، میاں عبدالرحمن صاحب پیر کوٹ، منشی محمد حسین صاحب جہلم ، غلام احمد صاحب اختر اور ریاست بہاولپور ، منشی عبد الخالق صاحب مظفر نگر ، چوہدری فتح محمد صاحب طالبعلم ایم۔اسے کلاس علی گڑھ ، امام علی صاحب کشور ریاست پٹیالہ مولوی تعلام رسول صاحب وزیر آباد ، میاں غلام حیدر صاحب کونڈی را جوانی شیخ نیاز احمد صاحب وزیر آباد ، انور حسین خانصاحب مدرس مدرسه بیگم پور ، حافظ ابراہیم صاحب قادیان ، شاہ ولی اللہ صاحب قادیان ہنستی محبوب عالم صاحب نیلہ گنبد لاہور ، میاں رکن الدین صاحب گوجرانوالہ ، میاں عمر الدین صاحب موضع صریح ، میان محبوب عالم صاحب موضع صریح ، میاں فضل دین صاحب مانگٹ اچو ہدری حاکم علی صاحب چک پنیار ، حکیم محمد صالح صاحب سانگلہ پل ، مولوی محمد اسمعیل صاحب قادیان - بعد ازاں ذیل کے افراد بھی اس انجمن کے ممبر بنے ہے۔منشی برکت علی صاحب شملہ ، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب قادیان ، میاں وزیر محمد صاحب اور میاں خدا بخش صاحب لاہو۔۔انصار اللہ کا افتتاحی اجلاس انجمن کے قیام کے قریباً دو ماہ بعداس ک ایک افتامی اجلاس ۱۶ - اپریل ۹ہ کو منعقد ہوا جس میں اس کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا اپنی ذاتوں میں اس تعلیم کا ایک نمونہ دکھائیں جو ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملی ہے اور ہر حال میں دین کو دنیا پر مقدم کریں پھر اس تعلیم کو پوری توجہ اور لگن کے ساتھ دوسروں تک پہنچائیں۔تبلیغ کا کام ہر روز کرنا چاہیے خواہ پانچ منٹ کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔دفتر، کچری یا کام کو آتے جاتے کسی نہ کسی کو کلمہ حق سنا دینا چاہیے ، اسی طرح ریل اور گاڑیوں کے سفر میں تبلیغ کے بہت سے مواقع پیدا ہوتے ہیں ان سے پوری طرح فائدہ اٹھانا چاہیے، پھر تبلیغ کے لیے لیکر اور تقریریں اہم ذریعہ میں اس لیے ان میں صارت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے کی بھی کسی ایک مقام کے انصار کو دستر له اخبار الفضل ۱۶ - جولائی ۱۹۱۳ء