تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 34
۳۴ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۹۷۴ء کے بعد جماعتی مقدمات کے سلسلہ میں آپ کو غیر معمولی خدمات کی توفیق ملی۔آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے وفات کے دن تک خدمات سلسلہ بجالاتے رہے۔آخری روز بھی آپ لاہور میں ایک جماعتی مقدمہ کے سلسلہ میں آئے ہوئے تھے۔مجلس انصار اللہ اور ماہنامہ انصار اللہ کے بہت سے مقدمات میں آپ نے پیش ہو کر اپنی پیشہ وارانہ قابلیت کا ثبوت دیا۔قاتلانہ حمله : ۱۹۸۸ء میں مشہور معاند احمدیت اسلم قریشی نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں آپ شدید زخمی ہو گئے۔اس حملہ کی وجہ سے آپ کے جسم پر سات زخم آئے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو اس قاتلانہ حملہ کے بداثرات سے بچایا اور معجزانہ زندگی عطا فرمائی۔حضرت خلیفہ المسح الرابع حمہ اللہ تعالی کا خراج تحسین: مکرم خواجہ صاحب گزشتہ ربع صدی سے جماعتی مقدمات میں بے لوث خدمات بجالاتے رہے جن میں مجلس انصار اللہ کے متعلقہ مقدمات بھی شامل ہیں۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے آپ کی وفات پر فرمایا:۔" آپ جماعت کے عظیم سپوت تھے جن کی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔“ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ایک مکتوب مبارک میں ذکر اسیران راہِ مولا کے نام حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے اپنے ایک مکتوب مبارک میں مکرم خواجہ صاحب کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔حضور نے تحریر فرمایا۔: وو پیارے عزیزان آغا سیف اللہ ، مرزا محمد الدین ناز صاحب ، قاضی منیر احمد صاحب، محمد ابراہیم صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته آپ کی فیکس ملی۔الحمد للہ۔مبارک ہو۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسیران راہ مولیٰ کی صف میں شامل ہونے کی سعادت بخشی۔حوصلہ، ہمت اور دعاؤں سے اسیری کے دن کاٹنے کی توفیق بخشی۔ساری جماعت کی طرف سے آپ یہ قربانی پیش کر رہے تھے۔اس لئے سب کا فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں کا سہارا لیتے۔اس مشکل وقت میں خواجہ سرفراز صاحب