تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 265
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۴۵ سفارشات و فیصلہ جات مجلس شوریٰ انصار اللہ ایک نہایت پیارا اور بابرکت قرآنی حکم شَاوِرُهُمْ فِی الامر ہے یعنی معاملات باہمی مشاورت سے طے کئے جائیں۔اس حکم کی تعمیل میں جماعت احمدیہ میں مجلس شوری کا نظام قائم ہے۔اس نظام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ذیلی تنظیمیں بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں شوری کا مسنون طریق اپناتی ہیں اور پیش آمدہ مسائل اور بجٹ پر غور کر کے اپنی سفارشات خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کرتی ہیں اور پھر دربار خلافت سے آخری منظوری عطا ہونے کے بعد یہ سفارشات فیصلہ بن جاتی اور مجالس اور اراکین کے لئے واجب التعمیل قرار پاتی ہیں۔مجلس شوریٰ انصار اللہ میں نمائندگی کا طریق، ایجنڈا کی تیاری اور فیصلہ کا طریق دستور اساسی میں درج ہے اور پھر ان کی وضاحت پر مشتمل ایک پورا باب تاریخ انصار اللہ جلد اوّل میں شوریٰ انصار الله کے نام سے شائع شدہ ہے۔انصاراللہ میں با قاعدہ مجلس شوری کا آغاز ۱۹۵۵ء کے سالانہ اجتماع سے ہوا اور پھر ۱۹۸۳ء تک اس پر عمل ہوتا رہا۔۱۹۸۴ء سے ناموافق ملکی حالات اور حکومت کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی بناء پر سالانہ اجتماعات کا انعقاد مسلسل التواء میں چلا آرہاہے لہذا اس موقع پر مجلس شوری کا انعقاد بھی نامکن ہو گیا۔اس خلاء کو کسی حد تک پورا کرنے کے لئے ۱۹۸۵ء سے سیدنا حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے محدود شوریٰ کا آغاز کیا گیا جس میں مرکزی مجلس عاملہ اور ناظمین علاقہ واضلاع کے علاوہ حسب حالات مجالس کے نمائندگان کی ایک مخصوص تعداد بھی شریک ہوتی ہے۔۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۳ ء تک ہونے والی محدود شوری کے مختصر کوائف ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔۲۰۰۰ ء: اجلاس شوری منعقده ۱۲ نومبر بروز اتوار صبح 9 بجے بمقام: ہال انصار الله تعداد شاملین : ۲۵۶ مدعووین: ناظمین اضلاع و علاقہ کے علاوہ ہیں یا بیس سے زائد تجنید والی مجالس کے زعماء۔۲۰۰۱ء: اجلاس شوری منعقده ۱۴ نومبر بروز اتوار صبح ۹ بجے بمقام: ایوانِ محمود تعداد شاملین: ۲۹۰ مدعووین : ناظمین اضلاع و علاقہ کے علاوہ ہیں یا بیس سے زائد تجنید والی مجالس کے زعماء۔