تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 5 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 5

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۰۰۰ء صدر مجلس و نائب صدر صف دوم مجلس انصار اللہ پاکستان کی میعاد اس فتح ۱۳۷۸هش/ دسمبر ۱۹۹۹ء کو ختم ہو رہی تھی۔آئندہ دوسالوں کے ہر دو عہدوں کے لئے حسب قاعدہ دستور اساسی مجالس سے نام منگوائے گئے اور مرکزی مجلس عاملہ میں پیش کئے گئے۔صدر مجلس مجالس کی طرف سے صدر مجلس کیلئے جواساء موصول ہوئے ان میں سے مرکزی مجلس عاملہ نے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں مندرجہ ذیل کی سفارش کی۔ا۔مکرم صاحبزاہ مرزا خورشید احمد صاحب ۲۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ۳ مکرم حافظ مظفر احمد صاحب ۵ مکرم سید خالد احمد صاحب مکرم مولا نا مبشر احمد کاہلوں صاحب ۶ - مکرم مولا نا محمد اعظم اکسیر صاحب ے۔مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب ۸ - مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب ۹ مکرم محمد اسلم صابر صاحب ان ناموں کے علاوہ بعض مجالس کی طرف سے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کا نام بھی تجویز ہو کر آیا۔دستور اساسی کا قاعدہ نمبر ۳۸ اس طرح ہے ” کوئی رکن متواتر تین بار سے زائد صدارت کیلئے منتخب نہ ہو سکے گا۔سوائے اس کے کہ حضرت خلیفتہ ایسے کسی کو اس قاعدہ سے مستثنیٰ قرار دے دیں۔‘ مجالس کو اس قاعدہ سے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کا نام اس قاعدہ کے تحت پیش نہیں ہو سکتا اس کے با وجود بعض مجالس نے ان کا نام تجویز کر دیا۔مجلس عاملہ نے حضور انور کی خدمت میں سفارش کی کہ اگر حضور پسند فرمائیں تو مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کا نام پیش کرنے کی اجازت فرما دیں۔نائب صدر صف دوم مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان نے مجالس کی طرف سے آمدہ اسماء میں سے مندرجہ ذیل اسماء نائب