تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 202
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۸۲ ہوا۔جس میں مندرجہ ذیل اراکین نے شرکت فرمائی۔ا۔مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب ۲۔مکرم خالد محمودالحسن بھٹی صاحب مکرم چوہدری نصیر احمد صاحب قائمقام زعیم اعلیٰ ۴ مکرم عبد الجلیل صادق صاحب ۵۔مکرم حافظ مظفر احمد صاحب ے۔مکرم سید قاسم احمد شاہ صاحب ۶ مکرم منیر احمد بسمل صاحب ۸۔مکرم مبارک احمد طاہر صاحب ۹۔مکرم چوہدری لطیف احمد جھمٹ صاحب ۱۰۔مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب 11۔مکرم ڈاکٹر عبدالخالق خالد صاحب ۱۳ مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب ۱۲۔مکرم سید طاہر احمد صاحب اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب نے کی۔اس کے بعد عہد دہرایا گیا۔عہد کے بعد گزشتہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی جو متفقہ طور پر درست قرار دی گئی۔بعد ازاں قائدین کرام نے اپنی رپورٹس پیش کیں۔سب سے پہلے قیادت عمومی ، اشاعت، تحریک جدید ، ذہانت و صحت جسمانی اور تربیت کی رپورٹس پیش ہوئیں۔محترم صدر صاحب نے قائد صاحب تربیت کو ہدایت فرمائی کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تحریک دعا کے بارہ میں اگلے ماہ بھی ایک سرکلر مجالس کو بھجوائیں۔اس کے بعد قیادت ایثار تجنید ، زعیم اعلیٰ ربوہ ، وقف جدید، اصلاح وارشاد تعلیم القرآن اور مال کی رپورٹس پیش کی گئیں۔محترم صدر صاحب نے قائد صاحب تجنید کو ہدایت فرمائی کہ احزاب بندی اور سائقین کا نظام جن مجالس میں قائم ہو چکا ہے، اس کی رپورٹ پیش کریں۔مکرم قائد صاحب ایثار کو ہدایت فرمائی کہ میڈیکل کیمپس میں جو کمی ہوئی ہے اس کی وجہ معلوم کی جائے۔اس کے بعد مکرم منظور احمد صاحب کا معاملہ پیش ہوا۔ان کے بارہ میں طے ہوا کہ جب تک نائب قائد عمومی کا با قاعدہ تقر ر نہیں ہو جاتا اس وقت تک یہ کام کرتے رہیں۔اس کے بعد ان کا معاملہ پیش ہو۔یہ اجلاس دعا کے بعد سوا سات بجے اختتام پذیر ہوا۔(۳) خلاصہ کارروائی اجلاس مجلس عامله ۲۲ دسمبر ۲۰۰۳ء مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کا ماہانہ اجلاس مؤرخہ ۲۲ دسمبر ۲۰۰۳ء بروز پیر بوقت سوا چار بجے شام گیسٹ ہاؤس مجلس انصاراللہ میں زیر صدارت مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب صدر مجلس منعقد