تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 59
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۱۔مکرم حافظ مظفر احمد صاحب ۵۹ ۱۲ مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ۱۳۔مکرم ڈاکٹر عبدالخالق خالد صاحب ۱۴۔مکرم محمد اسلم شاد منگل صاحب اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب نے کی۔اس کے بعد عہد دہرایا گیا۔عہد کے بعد گزشتہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی جو متفقہ طور پر درست قرار دی گئی۔اس کے بعد قائدین کرام نے اپنی ماہانہ رپورٹ پیش کیں۔سب سے پہلے قیادت عمومی ،صف دوم، اشاعت اور زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ نے رپورٹ پیش کی۔محترم صدر صاحب نے زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ نمازوں کی حاضری کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔جو نمازوں میں ست ہیں ان کو بعض دوستوں کے سپرد کیا جائے جو انہیں پیار اور محبت سے سمجھائیں۔لجنہ کی طرف سے سڑکوں پر درخت لگانے کی تحریک کے سلسلہ میں محترم صدر صاحب نے ہدایت فرمائی کہ زعماء کے سپرد یہ کام کیا جائے کہ وہ اس کی نگرانی کریں اور خیال بھی رکھیں اور رپورٹ بھی دیں کہ انہوں نے کتنے درخت لگوائے ہیں۔بجلی کی تاروں کی طرف دوسری قسم کے درخت لگانے کی تلقین کی جائے۔بریکارلوگوں کو کام کرنے کی ترغیب دلائی جائے۔اس کے بعد قیادت ذہانت و صحت جسمانی تحریک جدید، ایثار، وقف جدید، اصلاح و ارشاد، تربیت اور مال کی رپورٹس پیش ہوئیں۔محترم صدر صاحب نے قائد صاحب ایثار کو ہدایت فرمائی کہ مجالس کو توجہ دلائیں کہ وہ وقار عمل میں بیوت الذکر کی صفائی کے علاوہ ایسے کام بھی شامل کریں جن کا کوئی اجتماعی فائدہ ہو۔نیز ربوہ کے محلہ جات میں جائزہ لیا جائے جو افراد بیکار ہیں اور کام کر سکتے ہیں ان کو کوئی کام کرنے کی ترغیب دلائی جائے اور ان کی راہنمائی کی جائے۔مکرم قائد صاحب وقف جدید کو ہدایت فرمائی کہ جن زعامت ہائے علیاء سے وقف جدید کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ، ان کو توجہ دلائیں۔مکرم قائد صاحب تربیت کو ہدایت فرمائی کہ بعض پرانی اور بڑی دیہاتی مجالس میں نماز جمعہ اور نماز کی حاضری میں کمی ہے۔ان میں چک ۹۸ شمالی سرگودھا، اونچا مانگٹ ، پیرکوٹ ثانی وغیرہ اور ضلع سیالکوٹ کی پرانی مجالس شامل ہیں۔ان میں سے دس بارہ مجالس منتخب کر کے خصوصی توجہ دلائی جائے اور ان کا دورہ بھی کیا جائے۔