تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page vi of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page vi

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ عرض حال اقوام کی ترقی میں علم تاریخ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔صحیح تاریخ ایک عمدہ معلم ہے“ پھر سیدنا حضرت خلیفتہ امسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعتی تاریخ سے واقفیت حاصل کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔تاریخ کا جاننا اور خصوصاً اپنی تاریخ کا جاننا ہم سب کے لئے ضروری ہے کیونکہ کسی انسان اور کسی جماعت کی زندگی اپنے ماضی سے کلیہ منقطع نہیں ہوتی۔ہماری یہ ایک معمور ،، تاریخ ایک کامیاب تاریخ ہے۔“ سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس حقیقت کی نقاب کشائی کرتے ہوئے فرمایا ”اپنی تاریخ کا مطالعہ کئے بغیر نہ حال روشن ہوسکتا ہے ، نہ مستقبل واضح ہوتا ہے۔رُخ ہی معین نہیں ہوتا۔“ تاریخ کی اہمیت واضح کرنے کے لئے مذکورہ بالا ارشادات بہت روشن ہیں۔مجلس انصار اللہ نے اپنی شوری ۱۹۷۲ء/۳۵۱اعش میں تدوین ” تاریخ انصار اللہ کا فیصلہ کیا تھا۔اس فیصلہ کی تعمیل میں ۱۹۹۹ء تک کے حالات پر مشتمل تین جلد میں اب تک شائع ہو چکی ہیں۔اسی تسلسل میں تاریخ انصار اللہ کی جلد چہارم پیش ہے۔یہ جلد مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ایم اے کے چار سالہ دورِ صدارت (۲۰۰۰ ء تا ۲۰۰۳ء) کے حالات و واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔یہ دور بھی سابقہ ادوار کی طرح مجلس کی تاب ناکیوں میں اضافہ کرتا ہوا ترقیات کی نئی منازل کو چھوتا رہا۔اسی دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق جماعت کو قدرتِ ثانیہ کا ایک نیا ظہور عطا فرمایا اور انصار کو اپنے مقدس امام کے حضور تجدید عہد وفا کی سعادت نصیب ہوئی۔