تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 18 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 18

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۸ ہوا کہ انہیں غیر تسلی بخش کار کردگی کی بنا پر پندرہ دن کی تنخواہ بعوض نوٹس دیکر فارغ کر دیا جائے۔آخر میں دعا کے بعد یہ میٹنگ قریباً ساڑھے سات بجے اختتام پذیر ہوئی۔انتقال مکرم مولا نا عطاء اللہ کلیم صاحب جماعت احمدیہ کے قدیمی مخلص اور طویل عرصہ تک خدمات بجالانے والے مربی سلسلہ محترم مولانا عطاء اللہ حکیم صاحب مورخہ ۷ جنوری ۲۰۰۱ء بروز اتوار گیارہ بجے رات بعمر ۷۹ سال لاہور میں انتقال فرما گئے۔خدمات سلسلہ: مکرم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کے کئی شعبہ جات میں ایک لمبے عرصہ تک خدمات بجالاتے رہے۔آپ ۲۵ ستمبر ۱۹۲۲ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔آپ نے مدرسہ احمدیہ، جامعہ واقفین قادیان اور جامعتہ المبشرین میں تعلیم حاصل کی۔اس کے علاوہ آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل اور بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔آپ کی پہلی تقرری بطور مربی سلسلہ گولڈ کوسٹ ( موجودہ غانا ) میں ہوئی۔جہاں ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۵ ء تک رہے۔پھر چار سال تک دفتر وکالت تبشیر ربوہ میں کام کیا۔۱۹۵۹ء سے ۱۹۷۰ء کے عرصہ میں تین سال تک بطور مربی اور آٹھ سال بطورا میرو مربی انچارج غانا خدمات سرانجام دیں نیز ۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۰ء کے عرصہ میں بطور زونل انچارج مربی افریقہ زون خدمت بجا لائے۔۱۹۷۰ء تا ۱۹۷۲ء حدیقہ المبشرين ربوہ کے پہلے سیکرٹری رہے۔۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۵ء تک دوبارہ غانا میں امیر اور مربی انچارج کے فرائض سرانجام دیئے۔۱۹۷۵ء تا ۱۹۷۷ء سیکرٹری مجلس نصرت جہاں رہے۔۳۱ اگست ۱۹۷۷ء کو واشنگٹن تشریف لے گئے۔۱۹۷۹ ء تا ۱۹۸۰ء بطور مربی ویسٹ کوسٹ امریکہ کام کیا۔۱۹۸۱ء تا ۱۹۸۳ء بطور امیر و مربی انچارج امریکہ خدمت کی توفیق پائی۔آپ کو جرمنی میں بطور مربی انچارج لمبا عرصہ کام کرنے کا بھی موقع ملا۔بحیثیت مبلغ انچارج متعلقہ ممالک میں نائب صدر مجلس انصار اللہ ملک کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔۱۹۹۸ء میں آپ سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الرابع کی اجازت سے ریٹائر ہو گئے۔آپ نہایت جید عالم ، پُر جوش مقرر اور بہترین مصنف تھے۔آپ کو ایشیا، افریقہ ، امریکہ اور یورپ یعنی چار براعظموں میں بھر پور خدمت کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ جہاں بھی رہے وہاں کے حالات کے مطابق قلمی جہاد میں بھی حصہ لیا۔آپ کی خدمات کے نتیجے میں سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے آپ کو داد و تحسین سے نوازا جو آپ کے لئے یقیناً ایک قیمتی سرمایہ کی حیثیت رکھتا ہے۔۲