تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 16
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۶ دہرایا گیا۔عہد کے بعد گزشتہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی جو متفقہ طور پر درست قرار دی گئی۔اس کے بعد قائدین کرام نے اپنی رپورٹس پیش کیں۔سب سے پہلے قیادت عمومی تعلیم ، اشاعت ، زعیم اعلیٰ ربوه، تحریک جدید اور ایثار کی رپورٹس پیش کی گئیں۔محترم صدر صاحب نے قائدین کرام کو ہدایت فرمائی کہ وہ عصر کے بعد دفتر میں تشریف لایا کریں نیز دوره مجالس کمیٹی کو ہدایت فرمائی کہ دوروں کی اطلاع کا نظام فعال کیا جائے۔مکرم زعیم صاحب اعلیٰ کو ہدایت فرمائی کہ بازار میں نمازوں کے اوقات میں دکانیں بند کرنے کی تلقین جاری رکھی جائے اور آٹھ دس دکانیں ایک ایک آدمی کے سپرد کی جائیں۔نماز جمعہ کیلئے بھی انتظام کیا جائے۔رحمت بازار میں دکانیں بند نہ کرنے والوں کی اصلاح کیلئے مکرم عبدالجلیل صادق صاحب کا تعاون بھی حاصل کیا جائے۔اس کے بعد قیادت تجنید ، ذہانت و صحت جسمانی، وقف جدید، اصلاح وارشاد تعلیم القرآن اور مال کی رپورٹس پیش ہوئیں۔محترم صدر صاحب نے قائد صاحب تجنید کو ہدایت فرمائی کہ نومبائعین کو تجنید میں شامل کرنے کے بارہ میں مجالس کو یاد دہانی کرواتے رہیں اور یہ بھی دریافت کریں کہ انہیں کیوں شامل نہیں کیا گیا اور اگر کیا ہے تو کسی مجلس میں کیا ہے۔مکرم قائد صاحب وقف جدید کو ہدایت فرمائی کہ ناظمین اضلاع اور بڑی مجالس کو معلمین کیلئے بھی توجہ دلائیں۔اس کے بعد مکرم قائد صاحب مال نے مجلس انصاراللہ پاکستان کا مجوزہ بجٹ برائے سال ۲۰۰۱ ء پیش کیا۔مجلس عاملہ نے محاسبہ کمیٹی کی سفارش کا جائزہ لیتے ہوئے مندرجہ ذیل بجٹ شوری میں پیش کرنے کی سفارش کی۔چنده مجلس ۸۰۰۰۰۰۰ روپے سالانہ اجتماع ۹۰۰۰۰۰ روپے اشاعت لٹریچر ۲۷۵۰۰۰ روپے گیسٹ ہاؤس ۱۲۰۰۰۰۰ روپے ماہنامہ انصار الله ۱۰۴۸۰۰۰ روپے اس کے بعد مجالس کی طرف سے آمدہ تجاویز برائے ایجنڈا شوری کا جائزہ لیا گیا۔۱ تجویز از نظامت ضلع فیصل آباد: (i) دستور اساسی کے قواعد کے مطالعہ سے نظامت ضلع۔علاقہ میں نگران حلقہ جات کی نامزدگی / تقرر کا کہیں ذکر موجود نہیں۔یہ نظام کن قواعد کے تحت جاری ہے۔وضاحت فرمائی جائے۔