تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 253
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۳۳ با جماعت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انصار اللہ کو ارشاد فرمایا:۔آج سے میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کا فرض مقرر کرتا ہوں کہ وہ قادیان میں اس امر کی نگرانی کریں کہ نماز کے اوقات میں کوئی دکان کھلی نہ رہے۔میں اس کے بعد ان لوگوں کو مذہبی مجرم سمجھوں گا جو نماز باجماعت ادا نہیں کریں گے اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو قومی مجرم سمجھوں گا کہ انہوں نے نگرانی کا فرض ادا نہیں کیا۔۲۱ مکرم ومحترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے اپنے عہد صدارت میں نماز با جماعت کے قیام کے لئے ہمہ وقت مسلسل کوشش کی۔آپ اپنے افتتاحی خطاب سے لے کر اختتامی خطاب تک ، ہر میٹنگ میں ، دورہ جات ، خطوط اور تبصروں میں بھی نیز انفرادی رابطہ کے ذریعہ قائدین و ناظمین اضلاع، زعماء اعلیٰ اور انصار کو ہمیشہ نماز با جماعت کے قیام کے لئے مستعد رہنے کی تلقین فرماتے اور اس امر کی طرف توجہ دلاتے کہ ہم اپنی ذمہ داریاں تب کماحقہ ادا کرنے والے بن سکتے ہیں جب ہم خود اور ہماری نسلیں نماز با جماعت پر قائم ہوں۔اس کتاب کے گزشتہ صفحات میں قاری نے بار ہا صدر محترم کی اس تڑپ اور لگن کا مطالعہ کیا ہے۔آپ کے عہد صدارت کی تاریخ کے اختتام پر بطور اعادہ صرف اُن ہدایات کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو آپ نے اس ضمن میں مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاسات میں دیں۔یہ ان ہدایات کا صرف اجمالی خاکہ ہے اور اسی پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ بازار میں نماز کے سنٹر دکانوں کے قریب بنائے جائیں اور نمازوں کے اوقات میں دکاندار با قاعدہ دکانیں بند کر کے نماز کے لئے جائیں سوائے اس کے کہ سبزی وغیرہ کی دکانوں کے جو بند نہیں کی جاسکتیں۔جوسنٹر بند ہوا ہے اس کا جائزہ لے کر دوبارہ جاری کیا جائے اور سائقین بھی مقرر کئے جائیں۔“ اجلاس ۲۵ / جنوری ۲۰۰۰ء) مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ جن محلوں میں نماز با جماعت میں حاضری کم ہے ان میں دو دو تین تین صاحب اثر انصار کے وفودست افراد کے گھروں میں بھجوائے جائیں جو انہیں محبت اور پیار سے سمجھا ئیں۔مجلس مقامی کا نمائندہ بھی ان وفود میں