تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 252 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 252

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۳۲ نماز با جماعت کے سلسلہ میں صدر محترم کی ہدایات اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ : وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون (الذاريات: ۵۲) کہ میں نے جن وانس کو اس غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ نماز خدا تعالیٰ کے قرب کو پانے کا ایک ذریعہ ہے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔فاقيموا الصلوة ان الصلواة كانت على المؤمنين كتاباً موقوتاً۔(النساء:۱۰۴) پس نماز کو قائم کرو۔یقیناً نماز مومنوں پر ایک وقت مقررہ کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے ” قرۃ عینی فی الصلوۃ۔”یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے۔نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ ، راستباز ، ابدال ، قطب گزرے ہیں۔انہوں نے یہ مدارج اور مراتب کیوں کر حاصل کئے ؟ اسی نماز کے ذریعہ 19 یہی وجہ ہے کہ حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ نے ذیلی تنظیموں کے قیام کی جو چھ اہم اور بنیادی اغراض بیان فرمائیں، ان میں سے ایک اقامت صلوۃ ہے۔چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا: ” دوسری ضروری چیز نماز پوری شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے۔قرآن کریم نے يؤدون الصلواة کہیں نہیں فرمایايا يصلون الصلوۃ نہیں کہا بلکہ جب بھی نماز کا حکم دیا ہے يقيمون الصلواۃ فرمایا ہے اور اقامت کے معنی با جماعت نماز ادا کرنے کے ہیں اور پھر اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔اس میں خود نماز پڑھنا، دوسروں کو پڑھوانا ، اخلاص و جوش کے ساتھ پڑھنا، با وضو ہو کر پٹھہر ٹھہر کر ، با جماعت اور پوری شرائط کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔اس کی طرف ہمارے دوستوں کو خاص توجہ کرنی چاہئے۔۲۰ دیکھے مزید برآں حضور نے اپنے خطبہ جمعہ فرموده ۵ را حسان ۱۳۲۱ھ / جون ۱۹۴۲ء میں خاص طور پر نماز