تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 221 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 221

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۰۱ مجلس انصار اللہ کراچی کا سالانہ تربیتی اجتماع مورخه ۱۳/ اپریل ۲۰۰۳ ء بیت العزیز عزیز آباد کراچی میں نظامت ضلع کراچی کے زیر اہتمام سالانہ اجتماع منعقد ہوا جس میں مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب قائد اشاعت نے بطور مرکزی نمائندہ شرکت فرمائی۔مکرم مود و د احمد خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے اجتماع کا افتتاح فرمایا۔افتتاحی اجلاس مکرم نواب مود و د احمد خان صاحب امیر کراچی نے تلاوت، عہد اور نظم کے بعد انصار سے خطاب کرتے ہوئے خلافت احمد یہ، نظام وصیت اور انصاراللہ کے عہد کی غرض و غایت اور اہمیت بیان کی اور عافیت کے حصار سے وابستگی کی تلقین کی۔اجلاس اوّل: افتتاحی پروگرام کے بعد مکرم قریشی محمود احمد صاحب ناظم ضلع کی زیر صدارت پہلا اجلاس منعقد ہوا۔مکرم عبدالقدیر فیاض چانڈیو صاحب مربی سلسلہ کے درس قرآن کریم کے بعد مکرم لئیق احمد طاہر صاحب نے مطالبات تحریک جدید کے موضوع پر تقریر کی اور مرکزی نمائندہ مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب قائد اشاعت نے موجودہ دور کے تقاضے پر خطاب کیا۔اسی اجلاس میں علمی سوالات کے جواب مکرم مولانا مرزا نصیر احمد صاحب نائب وکیل المال ثانی، مکرم مشہود احمد ناصر صاحب مربی سلسلہ اور مکرم جمیل احمد بٹ صاحب نے دیئے۔اجلاس دوم : ادا ئیگی نماز ظہر وعصر اور وقفہ طعام کے بعد دوسرا اجلاس مکرم نعیم احمد خان صاحب ناظم علاقہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مکرم جمیل احمد بٹ صاحب نے درس دیا اور مکرم مشہود احمد ناصر صاحب نے نظامِ وصیت کے موضوع پر تقریر کی۔صدر اجلاس نے موجودہ حالات کے بارے میں حضرت اقدس کے اقتباسات سنائے۔اختتامی اجلاس: اس تربیتی اجتماع کے اختتامی اجلاس میں مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب نمائندہ مرکز نے انعامات تقسیم کیے اور اختتامی خطاب کیا۔آپ نے احباب کو دعوت فکر دی کہ کیا وہ جیسے اس بابرکت اجتماع میں آئے تھے ، ویسے ہی جارہے ہیں یا کوئی تبدیلی اپنے اندر محسوس کر رہے ہیں؟ اگر جواب مثبت ہے تو الحمد للہ ورنہ اپنی علمی اور عملی حالتوں میں تبدیلی پیدا کرنا ضروری ہے۔اختتام سے قبل مکرم قریشی محمود احمد صاحب ناظم ضلع کراچی نے گزشتہ سال کی نسبت امسال بہتر حاضری پر خوشی کا اظہار کیا اور مرکزی نمائندہ اور مقررین کا شکریہ ادا کیا۔آخر میں دعا ہوئی اور یہ پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔اس اجتماع میں حاضرین کی تعداد ایک ہزار چوہتر تھی۔۱۲