تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 222 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 222

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۰۲ وفات سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس سال کا ایک نہایت اہم واقعہ سیدنا ومولانا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا سانحہ ارتحال تھا۔حضور قریباً اکیس سال تخت خلافت پر متمکن رہنے کے بعد ۱۹ اپریل ۲۰۰۳ء کو اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔ہر احمدی کا دل اس صدمہ اور غم سے چور اور آنکھیں اشکبار ہوگئیں مگر اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں اپنے خدا کی رضا پر کامل رضامندی کے ساتھ سر تسلیم خم کیا۔اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو پورے صبر، ثبات قدم اور حوصلہ کے ساتھ اس جانکاہ صدمہ کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔مجلس انصار اللہ عالمگیر کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب یکم جنوری ۱۹۷۹ء سے ۱۰رجون ۱۹۸۲ ء تک اس کے صدر رہے۔ساڑھے تین سال کا یہ عرصہ بلا شبہ ایک سنہری دور ہے جس میں آپ نے بطور صدر، تاریخ ساز خدمات سرانجام دیں۔آپ کے وجود باجود کی صورت میں مجلس کو تازہ دم، ولولہ انگیز اور بالغ قیادت میسر آئی۔آپ نے اپنی خدا داد صلاحیتوں اور شاندار قوت فکر وعمل کے بہترین نمونہ سے مجلس انصار اللہ میں بیداری کی ایک نئی روح پھونک دی۔آپ نے مرکزی سطح پر کام کو از سر نو منظم فرما کر ہر شعبہ میں نئے نئے اہداف مقرر فرمائے اور بفضلہ تعالیٰ آپ کی انتھک شبانہ روز جد وجہد کے نتیجہ میں مجلس واقعہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔آپ کے دور کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے اپنے طرز عمل سے تنظیم کے ارکان کو کامل اطاعت مسلسل جد وجہد اور دعا کے ذریعہ خلیفہ وقت کا سلطان نصیر بنانے میں بھر پور محنت فرمائی اور اپنی صدارت کے پہلے دن سے لیکر آخری دن تک اس اہم فریضہ کو نہایت کامیابی سے نبھایا۔خلیفہ وقت کے ارشادات پر فور البیک کہنے کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔۲۴-۱ اگست ۱۹۷۹ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے انصار کا اصل کام تربیت قرار دیتے ہوئے اس طرف توجہ دینے کی تلقین فرمائی تھی۔چنانچہ صدر مجلس نے نہ صرف مرکزی نمائندگان کے ذریعہ تربیتی دوروں کا آغاز کیا بلکہ خود بھی مجالس کے انتھک دورے کئے تنظیمی و تربیتی امور میں مجالس کی راہنمائی کی بلکہ عملی رنگ میں تربیتی اجتماعات اور مجالس سوال و جواب منعقد کر کے انصار میں ایک مستعدی اور حرکت پیدا فرما دی۔