تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 210
۱۹۰ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تو یہ تھی کہ دو کپڑوں میں اپنی بیٹی کو رخصت کیا ہے اور کوئی جہیز وغیرہ نہیں تھا مگر اب رواج پڑ گیا ہے اس لئے دیکھا دیکھی کچھ نہ کچھ ضرور کرنا پڑتا ہے اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جن کی بیٹیاں بیاہنے والی ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہے ، حسب توفیق میں اپنی طرف سے بھی کچھ ان کو پیش کرتا ہوں ، وہ بے تکلفی سے مجھے لکھیں ، ان کا مناسب گزارہ ہو جائے گا اور جہیز کی رسم کسی حد تک پوری ہو جائے گی۔اگر میرے اندر اتنی توفیق نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا تعالیٰ کی جماعت غریب نہیں ہے۔بہت روپیہ ہے، جماعت کے پاس۔تو انشاء اللہ جماعت کے کسی فنڈ سے ان کی امداد کر دی جائے گی مگر ان کو توفیق مل جائے گی کہ ان کی بیٹیاں خیر وخوبی کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوں۔۵ کی بعد کو ۲۸ فروری ۲۰۰۳ء کے خطبہ جمعہ میں اس فنڈ کا نام مریم شادی فنڈ رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا۔پچھلے خطبہ جمعہ میں میں نے غریب بچیوں کی شادی کے لئے تحریک کی تھی کہ شادی کیلئے کچھ رقم پیش کریں۔مجھے تعجب ہوا ہے کہ جماعت نے اس طرح دل کھول کر اس قربانی میں حصہ لیا ہے کہ آسمان سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہوئی ہے۔پھر فرمایا۔66 اس فنڈ کا نام مریم شادی فنڈ رکھ دیتا ہوں۔امید ہے کہ اب یہ فنڈ کبھی ختم نہیں ہوگا اور ہمیشہ غریب بچیوں کو عزت کے ساتھ رخصت کیا جا سکے گا۔کچھ اس تحریک پر فوری لبیک کہتے ہوئے صدر مجلس مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے ۲۳ فروری ۲۰۰۳ء کو مندرجہ ذیل فیکس حضورانور کی خدمت بابرکت میں بھجوائی۔