تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 138 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 138

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم علم انعامی اور اسناد خوشنودی کے معیاروں پر نظر ثانی کمیٹی علم انعامی و اسناد خوشنودی نے محسوس کیا کہ ہر دو مقابلہ جات کے معیاروں پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔چنانچہ مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس ۲۲ جنوری ۲۰۰۲ ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے مختلف شعبوں کے معیار اور نمبروں کے بارہ میں کمیٹی کی سفارشات پیش کیں جن کی مجلس عاملہ نے منظوری دی۔تیر ہواں آل ربوہ والی بال ٹورنامنٹ مجلس انصار اللہ مقامی ربوہ کے زیر انتظام تیرہواں آل ربوہ والی بال ٹورنا منٹ ۲۷ جنوری ۲۰۰۲ء کو دار الرحمت غربی ربوہ کی گراؤنڈ میں شروع ہوا۔ٹورنامنٹ کا افتتاح مکرم مولانا بشیر احمد قمر صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد تعلیم القرآن نے افتتاحی خطاب و دعا سے کیا۔ٹورنامنٹ کے لئے ربوہ کے بلا کس کو تین حصوں میں تقسیم کر کے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جن کے آپس میں میچز ہوئے۔ٹیم نمبر : علوم الف، ب، یمن اور نصر بلاک ٹیم نمبر ۲ : رحمت الف، ب اور طاہر بلاک ٹیم نمبر ۳: صدرالف، ب بلاک اور مضافات مورخہ ۳۰ /جنوری کو ٹیم نمبر ا اور ٹیم نمبر ۲ کے مابین فائنل میچ کھیلا گیا جو ٹیم نمبرا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیت لیا۔والی بال ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ کے فوراً بعد ٹیم نمبرا کے ایک اچھے کھلاڑی مکرم عبد السلام صاحب گراؤنڈ میں ہی بے ہوش ہو گئے۔انہیں فضل عمر ہسپتال ربوہ لے جایا جار ہا تھا کہ ان کی وفات ہوگئی۔اختتامی تقریب : مؤرخہ ۳۰ / جنوری ۲۰۰۲ء کو بعد نماز عصر منعقد ہوئی اس تقریب کے مہمان خصوصی مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نائب صدر مجلس انصار اللہ پاکستان تھے۔تقسیم انعامات کے موقع پر تمام اعزاز پانے والے کھلاڑیوں نے اپنے انعامات کی رقم اپنے مرحوم کھلاڑی بھائی کے ورثاء کو بطور تحفہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ وہ رقم مکرم عبد السلام صاحب کے بیٹے کو پیش کر دی گئی۔مہمان خصوصی نے اپنے خطاب میں انصار اللہ مقامی کی اس کوشش کو سراہا کہ انصار اللہ میں کھیل کا یہ شوق اور یہ جذبہ اخوت قابل تحسین ہے۔آخر میں دعا کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔۳