تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 139 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 139

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۲۳ مجلس ربوہ کے مخلص کھلاڑی مکرم عبدالسلام صاحب کی اچانک وفات مکرم عبدالسلام صاحب ولد مكرم عبدالکریم صاحب محلہ دارالیمن شرقی ربوہ ۲۷/جنوری ۲۰۰۲ء کو اچانک حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے وفات پاگئے۔مرحوم اس وقت انصار اللہ مقامی ربوہ کے والی بال ٹورنا منٹ میں میچ کھیلنے کے بعد دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ گراؤنڈ میں بیٹھے ریفریشمنٹ میں مصروف تھے کہ بیٹھے بیٹھے دل کا دورہ پڑا۔کھیل کی انتظامیہ انہیں فوراً ایک کار پر فضل عمر ہسپتال ربوہ لے جارہی تھی کہ راستے میں ہی خالق حقیقی سے جاملے۔انا لله و انا اليه راجعون مرحوم کے دادا مکرم فضل الدین عبداللہ صاحب اور دادی محترمہ خیر النساء صاحبه حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقاء میں سے تھے۔مکرم عبدالسلام صاحب مرحوم، مکرم رشید احمد صاحب معاون ناظر امور عامہ کے برادر نسبتی تھے۔مرحوم نے خدام الاحمدیہ کے زیر انتظام اپنی آنکھوں کا عطیہ دیا ہوا تھا۔چنانچہ اسی رات مکرم ڈاکٹر مرزا خالد تسلیم احمد صاحب، مکرم ڈاکٹر رشیدمحمد راشد صاحب اور مکرم ڈاکٹر محمد احمد اشرف صاحب نے ان کی عطیہ شدہ آنکھیں حاصل کیں جو چند دن بعد دو ضرورت مندوں کو لگا دی گئیں۔مرحوم کی طرف سے اس وصیت کا کسی عزیز رشتہ دار کوعلم نہ تھا۔وفات کے بعد جب خدام الاحمدیہ کے عہدیداروں سے انہیں اس وصیت کا علم ہوا تو ورثاء نے مرحوم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کا عطیہ دے دیا۔اس طرح وفات کے بعد بھی انہوں نے انسانیت کی خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم کی اچانک اور بے وقت موت کو نہ صرف رشتہ داروں بلکہ ہر تعلق رکھنے والے نے شدت سے محسوس کیا۔اس تعلق کی بناء پر جب دوسرے دن نما ز جنازہ ادا کی گئی تو اہل ربوہ کی کثیر تعداد اس میں شامل ہوئی اور تدفین کے بعد دعا میں بھی شامل ہوئے۔مرحوم نے واپڈا سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور بیرون ملک جانے کی کوشش میں تھے مگر خدا تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی۔اس سانحہ پر مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ پاکستان، زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ اور دیگر عہدیداروں نے ان کے گھر پر جا کر ان کے عزیز واقارب سے اظہار تعزیت کیا اور ان کے پسماندگان کی ڈھارس بندھائی۔