تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 99
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۹۹ ریلی کو مزید بہتر بنانے کے لئے قیادت تعلیم انصار بھائیوں کی تجاویز اور آراء کی منتظر رہے گی۔آپ نے اراکین عامله مجلس انصار اللہ پاکستان علمی ریلی کے منتظمین ، معاونین، ناظمین اضلاع وزعماء اعلیٰ انصار الله پاکستان، مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان، دار الضیافت و دیگر ادارہ جات کا شکر یہ ادا کیا جنہوں نے ریلی کے کامیاب انعقاد کے لئے معاونت کی۔فجز اھم اللہ احسن الجزاء۔رپورٹ کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے انصار میں انعامات تقسیم فرمائے۔تقسیم انعامات کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے اختتامی دعا کروائی۔نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کے بعد جملہ شرکاء کی خدمت میں انصار اللہ کے لان میں عشائیہ پیش کیا گیا جس میں بزرگان سلسلہ نے بھی شمولیت فرمائی۔۱۴ نمائندہ برائے کمیٹی کفالت یکصد یتامیٰ یتامی کی خبر گیری خدا تعالیٰ اور سید نا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی روشنی میں ہمیشہ ہی جماعت احمدیہ میں ایک اہم حیثیت رکھتی رہی ہے۔اس کی ایک منظم صورت احمد یہ صد سالہ جو بلی کے حوالہ سے بھی قائم ہے یعنی کمیٹی کفالت یکصد یتامی۔اس کے ذریعہ بے شمار یتامی کی خبر گیری یا مکمل امداد کی جاتی ہے۔اس کمیٹی میں مجلس انصاراللہ پاکستان کے ایک نمائندہ بھی شامل ہوتے ہیں۔چنانچہ ۲۰۰۱ء میں مکرم شیخ مبارک احمد صاحب بطورنمائندہ انصار اللہ شامل تھے۔۱۵ ہفتہ ہائے تربیت ا۔دوران سال دو ہفتہ تربیت منائے گئے: (الف) پہلا ہفتہ تربیت ۹ تا ۱۵ مارچ ( جمعه تا جمعرات ) (ب) دوسرا ہفتہ تربیت ۷ تا ۱۳ ستمبر ( جمعه تا جمعرات) ۲۔ہفتہ تربیت کے پروگرام کی اہم باتیں حسب ذیل تھیں : نماز با جماعت ، تلاوت قرآن کریم، نماز تہجد ، نماز جمعہ میں پورے گھر کی حاضری، ڈش پر خطبہ سننا، دعائیہ خطوط لکھنا، کشتی نوح سے ”ہماری تعلیم کا ہر گھر میں درس۔۔ہفتہ کے دوران درج ذیل موضوعات میں سے روزانہ ایک کا درس۔نماز باجماعت، تلاوت قرآن کریم، نماز جمعہ، ایم ٹی اے کی افادیت، نماز تہجد، اخوت و محبت ، برکات خلافت۔