تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 60 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 60

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم اس کے بعد شوری ۲۰۰۰ء کی تجویز نمبر پر مقررہ سب کمیٹی کی رپورٹ پیش ہوئی۔فیصلہ ہوا کہ کمیٹی دوبارہ غور کر کے رپورٹ پیش کرے۔یہ اجلاس دعا کے بعد قریباً پونے سات بجے شام اختتام پذیر ہوا۔خلاصہ کا رروائی اجلاس مجلس عاملہ ۲۹ رمئی ۲۰۰۱ء مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کا ماہانہ اجلاس مورخہ ۲۹ مئی ۲۰۰۱ بروز منگل بوقت ساڑھے پانچ بجے شام گیسٹ ہاؤس مجلس انصار اللہ میں زیر صدارت مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب صدر مجلس منعقد ہوا۔جس میں مندرجہ ذیل ممبران نے شرکت فرمائی۔ا۔مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب ۲۔مکرم قریشی محمد عبد اللہ صاحب مکرم مولا نا محمد صدیق صاحب گورداسپوری ۴ مکرم مبارک احمد طاہر صاحب ۵ مکرم عبدالجلیل صادق صاحب ۷۔مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب ۹ مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب ۶ مکرم منور شمیم خالد صاحب مکرم چوہدری لطیف احمد جھمٹ صاحب ۱۰۔مکرم خالد محمودالحسن بھٹی صاحب ۱۱۔مکرم پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب ۱۲۔مکرم ڈاکٹر عبدالخالق خالد صاحب ۱۳۔مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم مبارک احمد طاہر صاحب نے کی۔اس کے بعد عہد دہرایا گیا۔عہد کے بعد گزشتہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی جو متفقہ طور پر درست قرار دی گئی۔اس کے بعد قائدین کرام نے اپنی رپورٹس پیش کیں۔مندرجہ ذیل رپورٹس پیش ہوئیں۔قیادت ہائے عمومی، اشاعت ،شعبہ آڈٹ ، ذہانت و صحت جسمانی ، زعیم صاحب اعلیٰ ربوه ، تربیت، وقف جدید، اصلاح وارشاد، تربیت نومبائعین تحریک جدید تعلیم القرآن ، مال اور تعلیم۔محترم صدر صاحب نے مکرم قائد صاحب اشاعت کو ہدایت فرمائی کہ سبیل الرشاد حصہ دوم کا جائزہ لے لیں کہ کہاں تک یہ حصہ تیار ہو چکا ہے۔اس کے بعد مکرم قائد صاحب تعلیم نے سالانہ علمی ریلی کا پروگرام پیش کیا۔مجلس عاملہ نے دو دن کے مجوزہ پروگرام کی منظوری کی سفارش کی۔۹ - ۱۰ نومبر بروز جمعہ، ہفتہ کی تاریخوں کا فیصلہ ہوا۔آخر میں مجلس شوری ۲۰۰۰ء کی تجویز نمبرا کے بارہ میں مقررہ سب کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔مجلس عاملہ نے سب کمیٹی کی سفارش سے اتفاق کیا کہ دستور اساسی میں تبدیلی کی