تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 15
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۵ گئی۔اس کے بعد قائدین کرام نے اپنی رپورٹس پیش کیں۔سب سے پہلے شعبہ آڈٹ ، زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ ،تحریک جدید، تجنید ، ذہانت و صحت جسمانی تربیت نومبائعین اور وقف جدید کی رپورٹس پیش کی گئیں۔مکرم صدر صاحب نے زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ محلوں میں فجر اور عشاء کی نمازوں میں ست انصار کو بار بار یاد دہانی کروائی جائے۔اسی طرح بازار میں بھی نمازوں کے اوقات میں دکانیں بند کروانے کی کوشش کی جائے۔مکرم قائد صاحب تحریک جدید کو ہدایت فرمائی کہ جن مجالس نے اعداد و شمار نہیں بھجوائے انہیں انفرادی طور پر توجہ دلائی جائے اور میٹنگ زعماء / ناظمین میں بھی ان مجالس کے بارہ میں جائزہ پیش کیا جائے۔اس کے بعد قیادت تعلیم کو ہدایت فرمائی کہ بعض پرانی اور بڑی دیہاتی مجالس میں حضور انور کے خطبہ جمعہ میں حاضری میں بہت کمی نظر آتی ہے۔ان مجالس کا جائزہ لیکر ان کو خطوط کے ذریعہ توجہ دلائیں۔دورہ پر جانے والے بھی خاص طور پر اس طرف توجہ دلائیں۔انسپکٹر ان کو بھی ان مجالس کے نام دیں وہ بھی اس بارہ میں کوشش کریں۔یہ اجلاس دعا کے بعد قریباً سوا سات بجے اختتام پذیر ہوا۔(۴) خلاصہ کا رروائی اجلاس مجلس عامله ۲۲ /اکتوبر ۲۰۰۰ء مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کا ماہانہ اجلاس مورخہ ۲۲ اکتو بر۲۰۰۰ء بروز اتوار بوقت پونے پانچ بجے شام گیسٹ ہاؤس مجلس انصار اللہ میں زیر صدارت مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب صدر مجلس منعقد ہوا۔جس میں مندرجہ ذیل ممبران نے شرکت فرمائی۔۲ - مکرم قریشی محمد عبداللہ صاحب ا۔مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب ۳ مکرم مولانامحمد صدیق صاحب گورداسپوری ۴۔مکرم خالد محمودالحسن بھٹی صاحب مکرم جاوید احمد جاوید صاحب قائمقام قائد اصلاح وارشاد ۶ - مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب ۸ مکرم سید قاسم احمد شاہ صاحب ۷۔مکرم منور شمیم خالد صاحب ۹ یکرم عبدالجلیل صادق صاحب ۱۰۔مکرم چوہدری لطیف احمد جھمٹ صاحب ۱۱۔مکرم عبدالرشید غنی صاحب ۱۲۔مکرم ڈاکٹر عبدالخالق خالد صاحب ۱۳ مکرم حبیب الرحمن زیر وی صاحب ۱۴۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ۱۵۔مکرم محمد اسلم شاد منگل صاحب۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب نے کی۔اس کے بعد عہد