تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 293
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۷۳ ماہنامہ انصار الله ماہنامہ انصار اللہ کا اجراء ۱۹۶۰ ء میں ہوا۔اس کے آغاز پر ہی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ نے اس رسالہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے بعض اہم نصائح سے نوازا جس کے بعض اہم اقتباسات ذیل میں دیئے جارہے ہیں۔اس رسالہ کے ایڈیٹروں کو چاہئے کہ خود بھی انصار اللہ یعنی خدا کے مددگار بنیں اور رسالہ کے نامہ نگاروں کو بھی تلقین کریں کہ وہ اپنے تمام مضامین کو اس مرکزی محور کے ارد گرد چکر دیں۔اس وقت دنیا نے موجودہ زمانہ کی مادی تہذیب و تمدن کے اثر کے ماتحت خدا کو گویا اکیلا چھوڑا ہوا ہے۔انصار اللہ کو چاہئے کہ سب سے پہلے قرآن وحدیث کا مطالعہ کر کے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لٹریچر کو گہری نظر سے دیکھ کر خدا کا منشا معلوم کریں کہ وہ اس زمانہ میں کیا چاہتا ہے یعنی وہ کن خرابیوں کو مٹانا چاہتا ہے اور کن خوبیوں کو قائم کرنا چاہتا ہے اور پھر اس مطالعہ کے بعد اپنی تمام قوتوں اور تمام ذرائع کے ساتھ خدا کی خدمت میں لگ جائیں۔اس کے بغیر نہ تو مجلس انصاراللہ کہلا سکتی ہے اور نہ ہی یہ رسالہ صحیح طور پر خدا تعالیٰ کا ناصر و مددگار سمجھا جاسکتا ہے۔رسالہ انصار اللہ کے مضامین اعلیٰ درجہ کے علمی اور تحقیقی ہونے چاہئیں اور اس رسالہ کو اپنے بلند معیار سے ثابت کر دینا چاہئے کہ حقیقتہ مذہب وسائنس میں کوئی ٹکراؤ اور تضاد نہیں کیونکہ وہ دونوں ایک ہی درخت کی دوشاخیں ہیں۔اے پھر اس کے محترم مدیر صاحب کی طرف سے پہلے ایڈیٹوریل میں لکھا گیا۔ی مجلس انصار اللہ مرکزیہ کا تر جمان ہوگا۔اس میں ہم انشاء اللہ التزام کے ساتھ امام التزماں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایسے روح پرور ملفوظات اور پُر معارف تحریرات ( نظم و نثر عربی ، فارسی و اردو) شائع کرنے کا اہتمام کریں گے کہ جو جذب و تاثیر کے شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں۔“ اس کے ساتھ آپ کے صحابہ کے حالات ، ان کے قبول حق کے واقعات ، قربانی و