تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 279 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 279

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۵۹ با قاعدہ ہو۔کوئی ایسار کن جو صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید، وقف جدید اور مجلس انصاراللہ کے چندوں کا بقایا دار ہو ، وہ مجلس انصار اللہ کے انتخابات میں نہ تو رائے دے سکے گا اور نہ ہی کسی عہدے کے لئے منتخب یا نا مزد کیا جا سکے گا۔تشریح: بقایا دار کی تشریح وہی سمجھی جائے گی جوان ادارہ جات کی منظور شدہ ہوگی۔انصار اللہ کے چندوں کے لحاظ سے بقایا دار وہ ہوگا جس کے ذمہ ایک سال سے زائد عرصہ کا چندوں کا بقایا ہوگا۔مجوزہ قاعدہ : وہ سلسلہ عالیہ احمد یہ اور مجلس انصاراللہ کے چندوں کی ادائیگی میں با قاعدہ ہو۔کوئی ایسا رکن جو صدر انجمن احمدیہ اور مجلس انصار اللہ کے چندوں کا بقایا دار ہو، وہ مجلس انصاراللہ کے انتخابات میں نہ تو رائے دے سکے گا اور نہ ہی کسی عہدے کے لئے منتخب یا نامزد کیا جا سکے گا۔تشریح: بقایا دار کی تشریح صدر انجمن احمدیہ کے چندوں کے لئے وہی سمجھی جائے گی جو صدر انجمن احمدیہ کی منظور شدہ ہوگی۔انصار اللہ کے چندوں کے لحاظ سے بقایا دار وہ ہوگا جس کے ذمہ ایک سال سے زائد عرصہ کا مجلس کے چندوں کا بقایا ہوگا۔والسلام - خاکسار مرزا خورشید احمد صدر مجلس انصاراللہ پاکستان ۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء سید نا حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ۷۔اکتوبر کو ہی ( ص ) کا نشان اور دستخط فرما کر مجوزہ قاعدہ کو منظور فرمالیا۔اس منظوری کے بعد دستور اساسی کا قاعدہ نمبر ۲ ج تبدیل کر دیا گیا۔اس تبدیلی کے بعد دستور اساسی کا نواں ایڈیشن فروری ۲۰۰۳ ء میں شائع ہوا۔دیگر ترامیم سید نا حضرت خلیفة اصبح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر صدر انجمن احمدیہ نے