تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 280
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۶۰ ۲۳ دسمبر ۲۰۰۳ء کوزیر نمبر ۱۶ غ م مندرجہ ذیل ریزولیوشن کیا۔: وو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تینوں ذیلی تنظیمیں اپنے قواعد میں حسب ذیل قاعدہ شامل کرلیں۔قاعدہ:۔ایسا شخص عہد یدار نہیں بن سکتا۔ماہ کا بقایا ہو۔ہے جس کے ذمہ لازمی چندہ جات ( یعنی چندہ عام ، چندہ جلسہ سالانہ ، چندہ حصہ آمد ) کا چھ جو اپنے لازمی چندہ جات مقامی نظام کو تو ڑ کر علیحدہ طور پر مرکز میں بھجوانے پر مصر ہو۔جس کو کسی وجہ سے تعزیر ہوئی ہو اور معافی کو دو سال پورے نہ ہ ے نہ ہوئے ہوں۔جس کی وصیت صدر انجمن احمدیہ نے کسی تعزیر یا عدم ادائیگی چندہ وصیت منسوخ کی ہو۔جو کسی بھی وقت جماعتی یا ذیلی تنظیموں کے چندہ کی کوئی رقم ذاتی مصرف میں لایا ہو۔“ تعمیل ارشاد میں دستور اساسی میں اس کو بطور قاعدہ شامل کر لیا گیا۔مکرم ناظر صاحب اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ پاکستان نے بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں تحریر کیا کہ ” موجودہ قاعدہ نمبر ۳۴۱ میں چندہ جلسہ سالانہ بقایا دار ایک سال کا ہے۔چونکہ بعض احباب جماعت سال میں چندہ جلسہ سالانہ اکٹھا یعنی ایک بار ہی دیتے ہیں اس لئے خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر چندہ جلسہ سالانہ کی بقایا داری کے لئے سابقہ مدت ہی رہنے دی جائے تو بہتر ہوگا۔“ اس پر حضور نے ارشاد فرمایا۔ٹھیک ہے۔چندہ جلسہ سالانہ ایک سال صدرانجمن احمدیہ نے یہ فیصلہ زیرنمبر ۲۴ غ م بتاریخ ۷ ارفروری ۲۰۰۴ء کو ریکارڈ کیا۔اس کی روشنی میں دستور اساسی انصار اللہ کے مذکورہ بالا قاعدہ میں بھی تبدیلی کر دی گئی اور مجالس کو اس تبدیلی سے اطلاع دے دی گئی۔تا ہم ۲۰۰۹ء کی مجلس شوری انصار اللہ میں اسے پیش کر کے باقاعدہ دستور اساسی میں بھی شامل کر دیا گیا۔حوالہ جات الفضل انٹر نیشنل ۲۵ دسمبر ۱۹۹۸ ء تا یکم جنوری ۱۹۹۹ء صفحہ ۷