تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 254
۲۳۴ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم شامل کریں اور اگلی میٹنگ میں معتین رپورٹ دی جائے کہ کتنے محلوں میں وفود بھجوائے گئے؟“ اجلاس ۱۸ سراپریل ۲۰۰۰ء) محترم صدر صاحب نے زعیم صاحب اعلی ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ محلوں میں صبح اور عشاء کی نمازوں میں سست انصار کو بار بار یاددہانی کروائی جائے۔اسی طرح بازار میں بھی نمازوں کے اوقات میں دکانیں بند کر وانے کی کوشش کی جائے۔“ ( اجلاس ۱۸ مئی ۲۰۰۰ء) محترم صدر صاحب نے قیادت عمومی کے بارہ میں ہدایت فرمائی کہ دورہ پر جانے والے وفود کو مجالس کی نماز باجماعت نماز جمعہ اور ڈش پر حاضری کی رپورٹ دی جایا کرے تا کہ وہ اسکے مطابق مجالس کا جائزہ لیں اور تلقین کریں۔اسی طرح انسپکٹر ان صاحبان بھی جن مجالس کا دورہ کریں وہ بھی یہ رپورٹ لے جایا کریں اور اسکے مطابق مجالس کا جائزہ لیا کریں۔مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ رحمت بازار میں نماز جمعہ کے وقت کچھ دکا نیں کھلی رہتی ہیں۔وہاں کسی آدمی کو مقرر کیا جائے جوان کے نام نوٹ کرے اور پھر اس کے بعد مناسب آدمی مقرر کئے جائیں جو ان کو محبت اور پیار سے توجہ دلائیں نیز یہ فہرستیں محفوظ رکھی جائیں اور بار باران دوستوں کو توجہ دلائی جاتی رہے۔( اجلاس ۲۰ جون ۲۰۰۰ء) مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ نمازوں کے دوران دکانیں بند کروانے کے لئے مسلسل توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔صبر سے اور پیارو محبت سے سمجھایا جائے۔“ (اجلاس ۲۲ راگست ۲۰۰۰ء) محترم صدر صاحب نے زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ رحمت بازار اور گولبازار میں نماز جمعہ کے وقت دکانیں بند رکھنے کے لئے چیکنگ اور تلقین کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔“ ( اجلاس ۲۰ ستمبر ۲۰۰۰ء) مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ بازار میں نمازوں کے اوقات میں دکانیں بند کرنے کی تلقین جاری رکھی جائے اور آٹھ دس دکانیں ایک ایک آدمی کے سپرد کی جائیں۔نماز جمعہ کے لئے بھی انتظام کیا جائے۔رحمت بازار میں دکانیں بند نہ کرنے والوں کی