تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 226
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم حضور نے اپنی خدا داد فراست اور تجربات کے نتیجہ میں اور دعاؤں کے ذریعہ الہی مدد مانگتے ہوئے۳ / نومبر ۱۹۸۹ء کو اٹھایا اور مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی بجائے ہر ملک میں صدارت کا نظام جاری فرمایا۔وہ تنظیم جو چند علاقوں یا چند ملکوں میں اپنی سرگرمیاں محدود انداز میں جاری رکھے ہوئے تھی ، اب واقعہ بلند مدارج کو چھوتے ہوئے عالمگیر بن گئی اور روحانیت اور ترقیات کے نئے نئے میدانوں میں قدم مارنے لگی۔بفضلہ تعالیٰ اب اس کی سرسبز شاخیں خلافت احمدیہ کے تناور درخت کے سایہ تلے عجب بہاریں دکھلا رہی ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا یہ ایک ایسا گرانقدر اور عظیم الشان احسان ہے جو کبھی ہمارے دلوں سے حضور کی مقدس یا د کو کونہیں ہونے دے گا۔حضرت خلیفۃ اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے محبتوں کو اشکبار کر کے ۱۹ ر ا پریل ۲۰۰۳ء کو مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قدیم سنت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئے گئے وعدوں اور خلفاء احمدیت کی پیشگوئیوں کے عین مطابق وليبدلنهـم مـن بـعـد خوفهم امنا کی تجلی دکھاتے ہوئے خوف کی اس حالت کو پھر سے امن میں تبدیل کر دیا اور ۱۲۳ اپریل کی شب بیت الفضل لندن سے اٹھنے والی آواز نے ہر احمدی کے محزون اور تھراتے ہوئے دل پر سکینت کا دھارہ پوری شدت سے جاری کر دیا۔انی معک یا مسرور کی آسمانی پیش خبری پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوئی اور حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب اطال اللہ بقاہ خلیفہ اسیح الخامس منتخب ہوئے۔مجلس انصار اللہ پاکستان کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کی مرکزی عاملہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب بطور قائد تعلیم القرآن، قائد وقف جدید اور قائد ذہانت و صحت جسمانی شامل رہے۔بحیثیت ناظر اعلی صدر انجمن احمدیہ پاکستان و امیر مقامی آپ نے مجلس کی بہت سی مرکزی و مقامی تقاریب کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے برکت بخشی جن میں علمی اور ورزشی پروگرام شامل ہیں۔اپنے رُوح پرور خطابات سے نوازا اور انصار کے ایمانوں میں حرارت پیدا کی حقیقی معنوں میں انصار اللہ بننے کی تلقین کی اور قدم قدم پر رہنمائی اور حوصلہ افزائی فرمائی۔اللَّهُمَ أَيَّدُهِ بِنَصْرَكَ الْعَزِيزِ قرارداد تعزیت و تجدید عہد وفا سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے سانحہ ارتحال پر تعزیت کے اظہار اور سید نا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں وفا اور اطاعت کے تجدید عہد کے لئے مندرجہ