تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 225 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 225

۲۰۵ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم شعبہ اشاعت بھی آپ کے فیض سے خالی نہیں رہا۔مجلس کے ترجمان ماہنامہ انصاراللہ کے معیار کو بلند کرنے کے لئے آپ نے مسلسل کوشش کی اور ایسے مدیر منتخب فرمائے جو آپ کی خواہشات اور توقعات کے مطابق ادبی اور تربیتی لحاظ سے اس کا بہترین معیار قائم کرتے رہے۔رسالہ کی اشاعت کو بڑھانے کے لئے آپ نے انتظامیہ میں مناسب تبدیلی فرمائی۔خطوط اور اعلانات کے علاوہ مربیان کرام سے بھی تعاون حاصل کیا اور آپ کے تین سالہ دور میں اس کی اشاعت ایک ہزار آٹھ سو سے بڑھ کر تین ہزار دو سو ہوگئی۔آپ کے دور صدارت کا ایک تاریخ ساز واقعہ پندرھویں صدی کا آغاز بھی ہے اس موقع پر آپ نے مکرم حافظ مظفر احمد صاحب سے رسالہ ” چودھویں اور پندرھویں صدی کا سنگم تحریر کرا کے شائع فرمایا۔بیرونی ممالک میں مجلس کی تنظیم نہ ہونے کے برابر تھی۔آپ نے مجالس بیرون کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ان میں اضافہ کا ٹارگٹ مقر فر مایا۔مجالس بیرن کی تنظیم نوکی گئی۔مجالس بیرون کی کارکردگی کو تیز کرنے کے لئے ۱۹۸۱ء میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث" کی خدمت بابرکت میں نائب صدر مجلس کو دورہ پر بھجوانے کی درخواست کی چنانچہ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے دو ماہ کے عرصہ میں نو ممالک کا دورہ کر کے مجالس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی سعی کی۔ہر جہت سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس دور کی ترقیات ظاہر و باہر ہیں۔تاریخ انصار اللہ جلد دوم آپ کے سعید و با برکت دور صدارت پر ایک اجمالی سی نظر ڈالتی ہے۔اس کا مطالعہ یقیناً قارئین کے لئے روحانی مسرتوں اور لذتوں میں اضافہ کا موجب ہوگا۔غرض حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنے دور صدارت میں جس ذاتی توجہ، محنت ، تند ہی لگن اور دور اندیشی سے قیادت فرمائی وہ آپ کا ہی خاصہ ہیں۔۰ ارجون ۱۹۸۲ء کو آپ کے خلعت خلافت زیب تن فرمانے کے بعد تو مجلس انصاراللہ آپ کی براہ راست نگرانی اور راہنمائی میں خصوصی محبتوں اور شفقتوں کی رہین منت رہی۔آپ نے اپنے ولولہ انگیز ، مؤثر اور علم و عمل سے بھر پور خطابات وارشادات کے ذریعہ انصار کوترقیات کی نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔یہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ ہی کی متبرک اور سحر انگیز شخصیت تھی جس نے اپنے انفاس قدسیہ سے برکت عطا کرتے ہوئے تنظیم انصار اللہ کو ایک نئے تاریخ ساز عہد میں داخل فرما دیا۔اس سے میری مراد وہ انقلابی قدم ہے جو بدلتے ہوئے حالات و واقعات کے پیش نظر