تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 223
۲۰۳ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۔سالانہ اجتماعات میں ہر مجلس سے نمائندگی کے بارہ میں حضور کی خواہش کی تعمیل میں صدر محترم کی طرف سے خطوط اور اعلانات اور نمائندگان کے ذریعہ متواتر شرکت کی تحریک ہوتی رہی اور خلافت کے پروانے شمع کے گرد پہلے سے بہت بڑھ کر جمع ہوتے رہے جس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اظہار خوشنودی بھی فرمایا۔۳۔سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث کے پیش فرمودہ تعلیمی منو به بر موقع اجتماع انصارالله ۱۹۷۹ء پر بھر پور عمل کرانے کی سعی فرمائی۔۴۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث" کے ارشادات کی روشنی میں ہر مجلس میں تعلیم القرآن کی خصوصی جدو جہد فرمائی۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اپنے دورِ صدارت کے آغاز میں ہی عہدیداران انصار اللہ کے لئے ہر شعبہ کی معتین سکیم اور بلند اہداف پیش نظر رکھ کر ایک دوسرے سے سبقت لیتے ہوئے کام کی تلقین فرمائی تھی۔انصار سے مضبوط رابطہ اور انہیں بیدا ر ر کھنے کے لئے آپ نے ہر سال کے آغاز پر ولولہ انگیز پیغامات سے انصار میں زندگی کی نئی لہر پیدا کر دی۔میدان عمل میں مقررہ کردہ بلند اہداف کی چوٹیاں سر کرنے کے لئے مرکزی سطح پر آپ نے ایک مستعد، منظم اور متحرک ٹیم تیار فرمائی جس کی آپ ہمہ وقت اور مسلسل رہنمائی فرماتے رہے۔مرکزی عاملہ کو مستعد کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نے ضلعی اور مقامی عہدیداران کو بھی اپنی مساعی کے دائرے میں شامل کرنے کے لئے مختلف اسلوب اختیار فرمائے اور مرکزی نمائندگان کے دورہ جات اور خط و کتابت کے علاوہ آپ نے مرکز میں ناظمین علاقہ ، اضلاع اور زعمائے اعلیٰ کے سہ ماہی اجلاسات کا آغاز فرمایا جن میں مقامی عہدیداران اپنی مشکلات پیش کر کے اسکا حل پاتے۔یہ اجلاسات تـعـاونــواعلى البر کے جذبہ کے ساتھ مرکزی عہدیداران میں کام کونئی جلا دینے کا سبب بنے۔پھر آپ نے ضلعی عہدیداران کو اپنی جملہ مجالس کے دورہ کی ہدایت فرمائی۔آپ کے عہد صدارت میں ایک سونٹی مجالس کا اضافہ ہوا۔آپ نے مجالس کے تربیتی اجتماعات اور مجالس سوال و جواب کے انعقاد کی حوصلہ افزائی فرمائی اور ان میں مرکز سے علماء سلسلہ، قائدین مرکز یہ اور دیگر نمائندگان کو بھجوایا۔آپ خود بھی بنفس نفیس پاکستان کے طول وعرض میں تشریف لے گئے۔یہ مجالس اپنے نتائج و اثرات کے لحاظ سے نہایت کامیاب اور مفیدر ہیں۔