تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 142
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم جاری رہا۔اس موقعہ پر شاملین کی خدمت میں مجلس کی طرف سے ناشتہ پیش کیا گیا۔اس کام پر اڑھائی گھنٹے صرف ہوئے۔شروع میں پینتیس انصار تھے۔آخر میں یہ تعداد چالیس تک پہنچ گئی۔شامل ہونے والوں کی تفصیل یہ ہے۔انصار چالیس، خدام چھ ، اطفال تین ، کل تعداد انچاس رہی۔درخواست برائے حصول عطایا سالا نہ اجتماعات جماعتی زندگی میں ایک رواں نہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔مرکز کے علاوہ علاقائی ضلعی اور مقامی سطح پر ان کا انعقاد مجلس کے لائحہ عمل میں ایک اہم پروگرام کے طور پر شامل ہے۔مرکزی اجتماعات پر پابندی کے باعث مجلس انصار اللہ نے اپنی زیادہ توجہ علاقائی اور ضلعی اجتماعات پر مرکوز کی۔ان اجتماعات پر اخراجات بھی ایک لازمی امر ہیں اور ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے جہاں مرکز کی طرف سے چندہ سالانہ اجتماع سے مدد کی جاتی ہے وہاں انصار سے عطا یا بھی اکٹھے کئے جاتے ہیں۔حسب قاعدہ، عطایا جات اکٹھا کرنے کی درخواست صدر محترم کی طرف سے مکرم ناظر صاحب بیت المال آمد کی سفارش کے ساتھ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح کی خدمت بابرکت میں بھجوائی جاتی ہے۔چنانچہ اس ضمن میں ۲۰۰۲ء میں مندرجہ ذیل درخواست صدر محترم نے حضور انور کی خدمت میں پیش کی۔بسم اللہ الرحمن الرحیم سید نا واما منا حضرت خلیفة المسیح الرابع ايدكم اللّہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بتوسط مکرم ناظر صاحب بیت المال آمد صدرانجمن احمد یہ پاکستان ربوه السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ مجلس انصار اللہ پاکستان کی طرف سے ضلع / ڈویژن کی سطح پر سالانہ اجتماعات کے سلسلہ میں مرکز کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔یہ اجتماعات خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑے سود مند ثابت ہورہے ہیں۔ان اجتماعات پر اٹھنے والے اخراجات کے لئے ناظمین اضلاع کچھ رقم تو مرکز سے بطور گرانٹ امد دوصول کرتے ہیں اور کچھ رقم اراکین سے بطور عطا یا وصول کرنے کی اجازت مانگتے ہیں جس کی درخواست حضور کی خدمت میں کی جاتی ہے۔سال ۲۰۰۲ ء کیلئے آٹھ لاکھ روپے اراکین مجالس انصاراللہ پاکستان سے بطور عطایا