تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 141 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 141

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۲۵ آج ہم آپ کو الوداع کہتے ہوئے دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آمین۔ہم ہیں اراکین مجلس انصار اللہ مقامی۔“ ازاں بعد محترم مولانا صاحب نے سپاسنامہ کا جواب دیتے ہوئے ذیلی تنظیموں میں ابتداء سے ہی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اپنی خدمات کا اختصار کے ساتھ ذکر فرمایا اور جملہ کارکنان دفتر اور عہدیداران کا شکر یہ ادا کیا۔آخر میں محترم صدر صاحب مجلس انصاراللہ پاکستان نے اپنے صدارتی خطاب میں مکرم مولانا صاحب کی بطور رفیق کار خدمات اور بطور زعیم اعلیٰ حسن کارکردگی کا ذکر فرمایا نیز ان کی شخصیت کے بعض نمایاں پہلوؤں کا ذکر بھی فرمایا۔تقریب کا اختتام دعوت عشائیہ اور دعا سے ہوا۔۵ مجلس انصار اللہ کریم نگر فیصل آباد کی رپورٹ شجر کاری مورخه ۲ فروری ۲۰۰۲ء کو مجلس کریم نگر فیصل آباد نے ملت روڈ پر واقع احمد یہ قبرستان میں تین گھنٹے وقار عمل کیا اور پھلدار اور سایہ دار پودے لگائے۔احمد یہ قبرستان بیت الحمد کریم نگر سے تقریباً دسکلو میٹر کے فاصلے پر برلب شارع واقع ہے۔وقار عمل جمعۃ المبارک کے روز تھا۔ساٹھ انصار اراکین نے فجر کی نماز بیت الحمد میں ادا کی۔قافلے میں تین ایسے بزرگ اراکین تھے جن کی عمریں بالترتیب پچاسی ، نوے اور سوسال تھیں۔بیت الحمد سے یہ قافلہ کاروں اور موٹر سائیکلوں پر دعا کے ساتھ روانہ ہوا۔احمد یہ قبرستان میں پہنچ کر ایک اجلاس ہوا جس میں تلاوت اور عہد کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”کشتی نوح“ سے اقتباس پڑھ کر سنائے گئے۔اسی طرح حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایک تقریر کا جو حضور نے سالانہ اجتماع انصار اللہ ۱۹۸۲ء کے موقعہ پر فرمائی تھی ، ایک اقتباس پڑھ کر سنایا گیا۔بعد ازاں مکرم ڈاکٹر ولی محمد ساغر صاحب نے درختوں کی اہمیت اور افادیت بیان کی۔آخر میں دعا ہوئی اور شجر کاری کا کام شروع ہوا۔سب سے پہلے مکرم شیخ سراج دین صاحب نے جن کی عمر تقریباً سو سال تھی، ایک پھلدار پودا لگا کر اس کام کا آغاز کیا بعد ازاں مکرم ڈاکٹر فضل کریم صاحب منتظم ایثار اور زعیم صاحب اعلیٰ نے پودے لگائے۔اس کے بعد جملہ ممبران عاملہ نے ایک ایک پھلدار پودا لگایا اور باقی سب حاضرین نے سایہ دار پودے لگائے۔قریباً ایک گھنٹہ تک یہ کام