تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 89
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۸۹ مکرم شیخ نذیر احمد صاحب فیصل آباد کی شہادت جماعت فیصل آباد کے اٹھہتر سالہ مخلص احمدی بزرگ محترم شیخ نذیر احمد صاحب کو مورخہ ۲۸ جولائی ۲۰۰۱ بروز ہفتہ صبح پونے آٹھ بجے ان کی رہائش گاہ پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔۲۸ جولائی کی صبح پونے آٹھ بجے محترم شیخ صاحب کی رہائش گاہ واقع خیابان کالونی نمبر ۲ (بدینہ ٹاؤن ) فیصل آباد کے دروازہ کی گھنٹی بجی۔ایک نو عمر ملازم نے دروازہ کھولا تو دروازے پر کھڑے شخص نے کہا کہ کسی بڑے کو باہر بھیجو، چنانچہ ملازم کے پیغام پر محترم شیخ نذیر احمد صاحب دروازہ پر پہنچے اور تھوڑا سا دروازہ کھولا ہی تھا کہ ملزم نے آپ پر یکے بعد دیگرے دو فائر کر دئیے۔جس کے بعد آپ کے عزیز فوری طور پر آپ کو ہسپتال لے کر گئے لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے محترم شیخ صاحب وقوعہ کے ایک گھنٹہ بعدا اپنے مولا کو پیارے ہو گئے۔جنازہ اور تدفین : ۲۹ / جولائی بروز اتوار بیت الفضل فیصل آباد میں احباب جماعت کی کثیر تعداد نے نماز جنازہ ادا کی۔بعد ازاں آپ کا جسد خاکی ربوہ لایا گیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ وامیر مقامی نے ساڑھے چھ بجے شام دارالضیافت کے سامنے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔جنازہ اور تدفین میں اہل ربوہ اور فیصل آباد کے علاوہ دیگر علاقوں کے احباب بھی بکثرت شامل ہوئے۔پسماندگان : آپ کے ایک بیٹے محترم شیخ سلیم احمد صاحب کو بطور نائب زعیم اعلیٰ انصار اللہ حلقہ دارالذکر فیصل آباد اور قائد خدام الاحمدیہ ضلع و علاقہ فیصل آبا دخدمت کی توفیق ملی۔حالات زندگی محترم شیخ نذیر احمد صاحب گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا نام محترم شیخ فتح محمد صاحب تھا۔آپ کے دادا حضرت شیخ دوست محمد صاحب اور نانا حضرت شیخ غلام رسول صاحب کو ۱۹۰۲ ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود کی بیعت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔محترم شیخ صاحب نے قلعہ کالر والا میں کاروبار کا آغاز کیا۔یہاں آپ کو مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت دین بجالانے کی توفیق حاصل ہوئی۔۱۹۶۶ء میں قلعہ کالر والا سے فیصل آباد منتقل ہو گئے جہاں ہیں سال تک بطور سیکرٹری مال خدمت دین بجالانے کی سعادت پائی۔آپ اپنے حلقہ کی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ہر فرد سے بہت چاہت اور محبت سے ملتے۔آپ کا ہر شخص سے ذاتی تعلق تھا۔بیمار پرسی کرتے اور حاجت مندوں کی ضروریات پوری فرماتے ، آپ عبادت گزار، دعا گو، ملنسار اور غرباء کے ہمدرد تھے۔بکثرت صدقہ و خیرات کیا کرتے تھے۔مہمان نوازی اور خلافت سے وابستگی جیسے اوصاف کے مالک تھے۔۱۲