تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 83
۸۳ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم داخل ہوئے۔آپ نے ۲ مئی ۱۹۷۱ء کو شاہد پاس کیا۔آپ کی پہلی تقرری بطور مربی سلسلہ تر گڑی ضلع گوجرانوالہ میں ہوئی۔بعد ازاں آپ کو لاڑکانہ، کراچی سمبڑیال ، لاہور اور راولپنڈی میں خدمات دینیہ بجالانے کی توفیق ملی۔۱۶ رمئی ۱۹۹۳ء کو جامعہ احمدیہ میں تفسیر القرآن پڑھانے کی ذمہ داری سپرد کی گئی۔آپ ایک بہترین مقرر تھے۔نہایت خوش الحانی سے تلاوت کیا کرتے تھے۔جلسہ سالانہ ۱۹۸۱ء، ۱۹۸۲ء اور ۱۹۸۳ء میں آپ کو تقریر کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔MTA پر آپ کے متعدد درس حدیث نشر ہو چکے ہیں۔مجلس انصار اللہ پاکستان کی عاملہ میں بطور قائد تربیت نو مبائعین خدمات دینیہ کی توفیق ملی۔۱۹۹۵ء میں بطور نمائندہ مجلس انصاراللہ پاکستان جلسہ سالانہ یو کے میں شرکت کی۔محترم مولانا صاحب موصوف دعا گو، ملنسار اور ہمدردو جود تھے۔ہر وقت خدمت دین کے جذبے سے سرشار رہتے تھے۔آپ کے ایک بیٹے مکرم جری اللہ راشد صاحب مربی سلسلہ ہیں اور دوسرے بیٹے عبد الحلیم شاہد صاحب سرگودہا میں بطور لوکل معلم خدمت دین کی توفیق پاتے رہے ہیں۔جنازہ: آپ کا جنازہ ۲۸ مئی کو ہی بیت المبارک میں محترم راجہ نصیر احمد صاحب ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ نے بعد نماز مغرب پڑھایا جس میں احباب نے کثیر تعداد نے شرکت کی۔آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔حلقہ سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کا تربیتی اجلاس مجالس انصار اللہ حلقہ سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کا ایک روزہ سالانہ تربیتی اجتماع مورخہ یکم جون ۲۰۰۱ء بروز جمعہ سمبر یال میں منعقد ہوا۔اجلاس کی کارروائی پونے گیارہ بجے صبح زیر صدارت چوہدری لطیف احمد صاحب جھمٹ ایڈیشنل قائد تربیت نو مبائعین شروع ہوئی۔تلاوت عہد اور نظم کے بعد مکرم جلال الدین شاد صاحب ناظم ضلع سیالکوٹ نے افتتاح کیا۔اجلاس میں حلقہ کی دس مجالس سے سو فیصد نمائندگی ہوئی اور اس میں اکسٹھ انصار، چھپیں خدام اور چودہ اطفال شامل ہوئے۔اس طرح کل حاضری ایک سو گیارہ رہی۔مکرم شیخ سجاد احمد صاحب مربی سلسلہ نے تربیتی امور اور دعوت الی اللہ پر مفصل تقریر کی۔اس کے بعد مولوی جمال الدین شمس صاحب نائب قائد اصلاح و ارشاد نے تربیتی امور مثلاً نمازوں میں حاضری، خطبات حضرت اقدس میں دیگر دوستوں کو شامل کرنا اور انفرادی مذاکرہ جات پر تقریر کی۔چوہدری لطیف