تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 84
۸۴ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم احمد صاحب جھمٹ ایڈیشنل قائد تربیت نو مبائعین نے متفرق تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی اور سیرت النبی کے اجلاسات منعقد کرنے کی تلقین کی۔اس کے بعد وقفہ سوالات میں جوابات دیئے گئے۔آخر میں مکرم ڈاکٹر رشید احمد صاحب زعیم انصار اللہ نے اپنے خطاب میں درود شریف اور خاص طور پر دعا پر زور دیا۔اجلاس کی کارروائی دعا کے ساتھ ختم ہوئی۔۸ مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کی سالانہ پکنک مورخه ۲۹ جون ۲۰۰۱ء بروز بدھ قیادت صحت جسمانی کے زیر اہتمام احمد نگر کے قریب واقع حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے فارم پر مرکزی مجلس عاملہ انصار اللہ کی سالانہ پکنک منائی گئی۔جس میں مجلس عاملہ کے اراکین کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلی و امیر مقامی اور مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید و سابق صدر مجلس نے بھی شرکت فرمائی۔اگر چہ یہ پروگرام ظاہری طور پر تو يَرْتَعْ وَيَلْعَبُ کا تھا مگر قدم قدم پر سیر روحانی اور حسن قدرت کے مشاہدات کا منظر بھی دلوں کو لبھانے کا موجب بن رہا تھا۔اس پروگرام میں شرکت کے لئے جملہ اراکین چھ بجے بعد عصر فارم کی بارہ دری پہنچ گئے۔پروگرام کا سب سے دلچسپ حصہ بیڈ منٹن کے نمائشی میچ تھے جس میں محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب صدر مجلس اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نائب صدر کے علاوہ مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب قائد عمومی، مکرم پروفیسر منور شمیم خالد صاحب، مکرم لطیف احمد صاحب جھمٹ ، مکرم سید قاسم احمد شاہ صاحب، مکرم قریشی عبدالجلیل صاحب، مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب، مکرم خالد محمود الحسن بھٹی صاحب، مکرم منیر احمد بسمل صاحب انچارج ایم ٹی اے اور مکرم خالد محمود صاحب سدھو نے بھر پور حصہ لیا جب کہ دیگر احباب کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے اور گاہے گاہے اپنے تبصروں سے شائقین کو محظوظ بھی کرتے رہے مگر کچھ وہ بھی تھے جنہوں نے یہ موقعہ بھی علمی گتھیوں کو سلجھاتے ہوئے گزارا۔اسی دوران بعض اراکین نے خوبصورت گراسی پلانٹس میں چہل قدمی کی اور رنگارنگ پھولوں پودوں سے قدرت کی رعنائیوں کا مشاہدہ کیا اسی طرح بعض سوئمنگ پول میں پیرا کی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔نماز مغرب وعشاء کی ادائیگی کے بعد احباب کو نہایت پر تکلف کھانا پیش کیا گیا۔ازاں بعد ایک دوست نے کچھ مزاحیہ خاکے پیش کئے اور مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب نے جماعت کے معروف شاعر میجر منظور احمد صاحب ساہیوال کی غزل خوش الحانی مگر نہایت دھیمے انداز ترنم میں سنائی جس کے