تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 856
۸۵۶ کے بعد مکرم رفیق احمد صاحب جاوید اور مکرم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کی۔تقاریر کے بعد سوال و جواب کی مجلس میں جوابات مکرم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب نے جوابات دیئے۔مورخه ۱۵اکتوبر کو مکرم سید احمد علی شاہ صاحب نے نماز تہجد پڑھائی اور نماز فجر کے بعد درس قرآن کریم دیا ، مکرم رفیق احمد صاحب جاوید نے حدیث کا اور مکرم شریف احمد صاحب اشرف مربی سلسلہ نے ملفوظات کا درس دیا۔حاضری خوشکن تھی۔درس کے بعد دور سومیٹر، گولہ پھینکنا، لمبی چھلانگ اور رسہ کشی کے مقابلہ جات ہوئے۔ناشتہ کے بعد بیت الحمد میں علمی مقابلہ جات منعقد ہوئے جس میں تلاوت ، تقریر، نظم خوانی، ترجمہ قرآن کریم اور دینی معلومات شامل تھے۔اس پروگرام کو مکرم رفیق احمد صاحب جاوید اور مکرم شریف احمد صاحب اشرف مربی سلسلہ نے مکمل کیا۔اس دوران مکرم سید احمد علی شاہ صاحب نے ایک غیر از جماعت کو دعوت الی اللہ کی۔بعد نماز جمعه اختتامی اجلاس میں انعامات تقسیم ہوئے۔مکرم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب نے اختتامی تقریر کی۔ازاں بعد مکرم رفیق احمد صاحب جاوید نے زعماء کے ساتھ میٹنگ کی جس میں شعبہ جات کے کام ، لائحہ عمل رپورٹس کی ترسیل اور چندہ جات کی ادائیگی کے علاوہ دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دلائی۔پانچ مجالس کے پچپن میں سے چوالیس انصار حاضر تھے۔سالانہ اجتماع ضلع اسلام آباد ۴ اکتو بر ۱۹۹۰ء کو بیت الذکر اسلام آباد میں ضلعی اجتماع منعقد ہوا۔نماز مغرب وعشاء کے بعد پہلا اجلاس ہوا۔تلاوت، عہد اور نظم کے بعد صدر محترم چوہدری حمید اللہ صاحب نے ذکر الہی اور اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی۔مکرم محمد اسلم صاحب شاد قائد عمومی نے نحسن انصار اللہ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے انصار اللہ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آخر میں مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف نے سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر تقریر کی۔اجلاس کے بعد جلسہ سالانہ میں حضور کے خطاب کی ویڈیو دکھائی گئی۔حاضری انصار ایک سو چوالیس، خدام و اطفال ایک سو چھیاسی، لجنہ بمعہ بچگان ایک سو پچاس ( میزان : چارسو پچاس ) افتتاح کے بعد صدر محترم کی صدارت میں اجلاس عاملہ ہوا۔اس میں قائد عمومی صاحب نے شعبہ عمومی کے بارہ میں ہدایات دیں۔رپورٹیں بر وقت بھجوانے کی طرف توجہ دلائی۔شعبہ مال تعلیم اور اصلاح وارشاد کے جائزے لئے گئے۔محترم صدر مجلس نے اپنے خطاب میں گھروں کو مرکز تربیت بنانے اور ہر گھر کو ذمہ دار