تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 767
272 نے مرتب کیا۔یہ شمارہ ایک سو اٹھائیس صفحات پر مشتمل تھا۔شمارہ ہذا میں اداریہ، امام الکلام، کلام الامام، عربی و فارسی منظوم کلام کے علاوہ درج ذیل مضامین شامل اشاعت ہیں۔براہین احمدیہ۔ایک الہی تقدیر ) مکرم مرزا محمد الدین ناز صاحب)، براہین احمدیہ میں سیدنا حضرت خاتم الانبیاء کے دلائل صداقت ( مکرم انتصار احمد نذر صاحب) ، " تصدیق براہین احمدیہ پر ایک نظر ( از مکرم سید مبشر احمد ایاز صاحب)، اس مضمون میں مصنف تصدیق براہین احمدیہ کے حضرت خلیفہ اول اور ان کے کتب خانہ کے بارے میں معلومات ، آپ کے بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اور دیگر موقر آراء اور کتاب ہذا لکھنے کی وجہ ، مولوی محمد حسین بٹالوی کا براہین احمدیہ پر ریویو۔براہین احمدیہ پر اخبار منشور محمدی کا تبصرہ۔براہین احمدیہ کی طباعت و اشاعت۔( مکرم ریاض محمود باجوہ صاحب )۔تذکرہ براہین احمدیہ کے مالی معاونین کا۔( مکرم عاصم جمالی صاحب) ، براہین احمدیہ کی علمی اور روحانی فوقیت کا اعتراف۔( مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب) ، آخری ٹائکل پیج پر حضرت اقدس کا براہین احمدیہ کی تصنیف سے قبل ایک خواب درج ہے۔صفحه ۶۶ تا ۹۲ پر مولوی محمد حسین بٹالوی کا براہین احمدیہ اور حضرت اقدس مسیح موعود کی تعریف میں ایک مضمون ہے جس کو وہ بعد میں سلسلہ کا اشد مخالف ہو کر بھی جھٹلا نہ سکا۔خصوصی شماروں پر حضور انور کی طرف سے تبصرے : خصوصی شماروں پر سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے : سیدنا اظہار خوشنودی پر مشتمل خطوط کے چندا قتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔(۱) کسوف و خسوف‘ نمبر کے بارے میں ایڈیٹر صاحب کے نام خط میں حضور انور نے ارشاد فرمایا: آپ نے انصار اللہ کا کسوف و خسوف نمبر ما شاء اللہ بہت اچھا نکالا ہے۔جزاکم اللہ تعالی احسن الجزاء۔اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو غیر معمولی برکتوں سے نوازے اور ذہن و قلب کو جلا بخشے اور احسن رنگ میں خدمت بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔سب ساتھیوں کو محبت بھرا سلام ( لندن۔۱۹۹۴-۷-۲۶) (۲) شیخ محمد احمد مظہر نمبر، پر حضور انور نے ایڈیٹر صاحب کے نام خط میں تحریر فرمایا: آپ نے ماہنامہ انصار اللہ کا حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر پر جو خصوصی شمارہ شائع کیا ہے۔وہ ماشاء اللہ بہت اچھا نمبر ہے۔محنت آپ لوگوں نے اس پر ماشاء اللہ خوب کی ہے۔چنانچہ مضامین کے لحاظ سے تقریباً سارا رسالہ ہی بہت پسند آیا ہے۔بالخصوص حضرت مرزا عبدالحق صاحب اور مکرم سلیم شاہجہان پوری صاحب کے مضمون تو ہیں۔کریم قدسی صاحب کی نظم بھی بہت عمدہ ہے اور واقعی انہوں نے بڑی EXCELLENT اچھی نظم کہی ہے۔ماشاء الله اللهم زد و بارک۔