تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 665 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 665

میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرنا ہے مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک جماعت کے تمام افراد خواہ بچے ہوں یا نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں ، اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے اور اس لائحہ عمل کے مطابق دن رات عمل نہیں کرتے جو ان کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔حضور کے اس ارشاد کی روشنی میں انصار اللہ کے لائحہ عمل پر پوری طرح عمل درآمد کے لیے جہاں خط و کتابت اور مرکزی نمائندوں کے دورہ جات وغیرہ سے تنظیم کی مضبوطی کا کام لیا جاتا ہے وہاں بیرونی عہدہ داران مثلاً ناظمین انصار اللہ اضلاع اور زعماء اعلیٰ مجالس کے دوسرے عہدیداروں کا رابطہ بہت ہی مفید ثابت ہوا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے دور میں اس طرف خاص توجہ دی گئی۔محترم صدر صاحب نے ناظمین اور زعماء اعلیٰ کے مرکز میں اجلاسات کے انعقاد کے لیے توجہ دلاتے ہوئے اس کا باقاعدہ انتظام کیا۔یہ قرار پایا کہ ہر سال ناظمین کے کم از کم تین سہ ماہی اجلاس ربوہ میں منعقد ہوں۔اس پر عمل کیا گیا۔اس طرح عام طور پر ایک اجلاس سال کے شروع میں، دوسرا سال کے وسط میں اور تیسرا انصار اللہ کے مرکزی اجتماع کے موقع پر منعقد ہوتا رہا۔ان اجلاسات کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تنظیم کو مضبوط کرنے میں مدد لی۔قائدین مرکز یہ اور ناظمین کے باہمی افہام و تفہیم سے کام کرنے کے جذبہ کوئی جلا ملی۔ناظمین اور زعماء اعلی اجلاس میں شامل ہو کر محترم صدر صاحب اور قائدین کی ہدایات سے ایک نیا جذبہ لے کر ربوہ سے واپس جا کر اپنی مجالس میں بیداری کی نئی روح پیدا کرنے کا موجب بنتے۔محترم صدر صاحب کی زیر نگرانی قیادت عمومی اس بات کا اہتمام کرتی کہ تمام ناظمین اور زعماء اعلیٰ مرکز میں منعقد ہونے والے اجلا اسات میں باقاعدگی سے شامل ہوں۔جو دوست اپنی مجبوری کی وجہ اجلاسات میں با قادگی سے شامل نہ ہو سکتے ہوں ، ان کا نمائندہ اجلاس میں بلایا جاتا۔اگر پھر بھی کوئی ضلع نمائندگی سے غیر حاضر رہے تو اسے اجلاس کی کاروائی لکھ کر بھجوا دی جاتی۔ان اجلاسات کے پروگراموں میں یہ امر بھی شامل ہوتا کہ ناظمین اور زعماء اعلیٰ اپنی مشکلات پیش کر کے مجلس مرکز یہ سے اس کا حل معلوم کر سکیں۔اس طرح مرکز کو فیلڈ میں کام کرنے والے کی مشکلات کا علم ہوتا اور بیرونی عہدیداران مرکزی عہدیداران سے را ہنمائی حاصل کرتے۔اس کا خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت گہرا اثر ہوا اور تنظیم میں تر و تازگی ، باہمتی اور عزم پیدا ہوا اور یہ آگے سے آگے بڑھتی چلی گئی۔بعض اجلاسات کی مختصر رو دا دبطور نمونہ وراہنمائی پچھلے صفحات میں پیش کی جاچکی ہے۔قرار داد ہائے تعزیت مرکزی مجلس عاملہ انصار اللہ نے اپنے اجلا سات میں بزرگانِ سلسلہ کے انتقال پر ملال کے مواقع پر مندرجہ ذیل قرار داد ہائے تعزیت منظور کیں اور ان کی نقول مرحومین کے لواحقین کے علاوہ روز نامہ الفضل اور ماہنامہ انصار اللہ کو بھجوائی گئیں۔