تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 6 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 6

اراکین عاملہ و دفتر انصار اللہ کا حضرت خلیفہ اسیح الرابع" سے شرف باریابی مجلس کی خوش بختی تھی کہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے ۱۴ جون ۱۹۸۲ء کو مرکزی مجلس عاملہ اور کارکنان دفتر انصار اللہ مرکزیہ نے (جن کی تعداد پینتیس تھی ) ملاقات کی اور حضور کے جاں بخش کلمات سے روحانی تازگی حاصل کی۔﴿۲﴾ اس میٹنگ میں حضور نے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ مجلس مرکز یہ گیسٹ ہاؤس انصار اللہ میں مزید چار فیملی ٹائپ رہائشی کمرہ جات ( مع غسل خانہ ) جلسہ سالانہ سے قبل تیار کر وائے۔“ مجلس عاملہ مرکزیہ کا پہلا اجلاس قرار داد تعزیت اور عہدِ اطاعت و وفاداری سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے انتقال پر ملال اور خلافت رابعہ کے بتائید الہی آغاز کے موقعہ پر ۱۶ جون ۱۹۸۲ء کو شترم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس کی زیر صدارت اس دور صدارت کا پہلا اجلاس مجلس عاملہ منعقد ہوا جس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات پر قرار داد تعزیت پاس کی گئی اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ تعالیٰ ) سے عہدِ اطاعت و وفاداری کا اقرار کیا گیا۔قرار داد تعزیت اور عہد اطاعت و وفا داری کا متن یہ تھا: قرار داد تعزیت مجلس عاملہ انصار اللہ مرکز یہ کا یہ اجلاس اپنے محبوب اور عالی مقام امام حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی اندوہناک وفات پر اپنے قلبی رنج و غم اور گہرے صدمہ کا اظہار کرتا ہے۔۸ اور ۹ جون کی درمیانی شب کو اچانک اس مختمر دہشت کے اثر سے ہمارے دلوں میں جو غم واندوہ کی لہر دوڑی، الفاظ اس کیفیت کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔الْعَيْنُ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ يَحْزُنُ وَ لَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى بِهِ رَبُّنَا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبشر نافلہ تھے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مایہ ناز جاں نشین جن کے حق میں حضور نے اپنی زندگی میں ہی آئندہ آنے والے مخالفوں پر کامیابی و کامرانی کی خوشخبری دے دی تھی۔ہم سے جدا ہونے والے محبوب امام نے اپنی دیگر کٹھن ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مجلس انصار اللہ کے گلشن کی آبیاری بھی اپنے خون پسینہ سے فرمائی۔۱۹۵۴ء میں جب آپ کو