تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 107
۱۰۷ میں تو پھر بھی اسلام کسی نہ کسی رنگ میں داخل ہو چکا ہے۔لیکن یہ ایک کنواری قوم ہے۔اس لحاظ سے کہ اس میں اس وقت ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ان میں اسلام کو لاز ما داخل ہونا ہے۔اس لئے ان سے ملاقات کا انتظام کرو۔چنانچہ ان کے ایک بڑے اچھے تعلیم یافتہ لیڈر تھے۔۔۔۔ان سے بڑی لمبی گفتگو ہوئی اور اس گفتگو سے پتہ چلا کہ وہ قوم اگر اپنے دل کھول سکتی ہے تو صرف احمدیت کے لئے کھول سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے خدمت کی نئی نئی راہیں کھولی ہیں اور وہی انشاء اللہ اس میں تو فیق عطا فرمائے گا کہ ہم ان راہوں پر آگے سے آگے قدم بڑھاتے چلے جائیں۔دوست دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں اور اس الحاح کے ساتھ دعائیں کریں کہ خدا کی رحمتیں پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ بہت زیادہ کثرت کے ساتھ اور بہت زیادہ بے حجابی کے ساتھ ہمارے دلوں پر نازل ہوں۔یہاں تک کہ دنیا دیکھ لے کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔جب تک یہ واقعہ نہیں ہوتا ، اس وقت تک ہم فتح حاصل نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(۴۵ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ اجتماع حضور کی اقتداء میں اجتماعی دعا سے اختتام کو پہنچا۔آخری اجلاس تک پانچ ہزار چورانوے زائرین و نمائندگان کوٹکٹ جاری کئے گئے۔فالحمد للہ علی ذالک سائیکل سواران اجتماع ۱۹۸۳ء سائیکل سوار ان کے ضمن میں بعض خاص امور بیان کرنا ضروری ہیں۔مکرم محمد اشرف صاحب ولد اللہ لوک صاحب مجلس تر گڑی ضلع گوجر انوالہ دائیں ٹانگ سے معذور تھے۔اور سوٹی کے سہارے سائیکل چلاتے تھے۔ایک سو دو میل کا سفر کر کے ربوہ پہنچے۔ان کا ذکر حضور انور نے اپنی تقریر میں فرمایا۔اس مرتبہ فیصل آباد سے جو سوار تشریف لائے ان میں چارنسلوں سے تعلق رکھنے والے شامل تھے۔طفل کو پڑدادا اپنی سائیکل پر بٹھا کر لائے۔مکرم شیخ سراج الدین صاحب ابن مکرم شیخ کرم دین صاحب عمر ۸۵ سال پڑدادا مکرم شیخ حمید الدین صاحب ابن مکرم شیخ سراج الدین صاحب عمر ۴۸ سال مکرم وسیم احمد صاحب ابن مکرم شیخ حمید الدین صاحب عمر ۲۸ سال مکرم محمد مسلم صاحب ابن مکرم وسیم احمد صاحب ان کا ذکر حضور انور نے اپنی تقریر میں بھی فرمایا۔وارا باپ عمرے سال بیٹا