تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 105
۱۰۵ پنجابی میں کہتے ہیں اللہ نے رجا دیا اپنے فضلوں سے۔وہی ہماری کیفیت ہے۔ایسی ایسی حیرت انگیز باتیں ہوئی ہیں کہ صاف پتہ چلتا تھا خدا کی تقدیر کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔دعوت الی اللہ ہمارے ایک احمدی دوست نے۔۔۔ایک ریڈیو اسٹیشن سے بھی رابطہ پیدا کیا۔۔۔چنانچہ ریڈیو آسٹریلیا کے اس اردو سروس کے نمائندہ جو ایک مسلمان ہی تھے وہ انٹرویو لینے کے لئے تشریف لائے اور اس کے لئے انہوں نے بڑی تیاری کی ہوئی تھی۔۔۔چنانچہ ان پچاس ہزار آدمیوں کو اللہ تعالیٰ نے میری آواز میں احمدیت کا پیغام پہنچانے کی صورت پیدا کر دی۔علاوہ ازیں جہاں تک آسٹریلیا کے انگریزی دان طبقے کا تعلق ہے اس کو پیغام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑے عجیب عجیب انتظام فرمائے۔وہاں ایک ایسا ریڈیو اسٹیشن بھی ہے جو اس لئے خاص طور پر دلچسپی کا مرکز ہے کہ اس میں اچانک ٹیلیفون کے ذریعہ انٹرویو نشر ہوتے ہیں اور یہ وہاں کے ریڈیو کا سب سے اہم اور ہر دلعزیز پروگرام ہے۔یہاں بھی اچانک وہ کہتے ہیں کہ فلاں شخصیت آسٹریلیا میں آئی ہوئی ہے۔اس کے ساتھ ہم ٹیلیفون پر باتیں کریں گے چنانچہ وہ صاحب بھی ٹیلیفون پر انٹرویو کے لئے تشریف لائے۔اس پروگرام کو لکھوکھہا آدمی سنتے ہیں۔۔جہاں تک اخباروں کا تعلق ہے۔۔۔سڈنی ہلٹن میں پریس کانفرنس ہوئی۔۔۔شروع میں اُنہوں نے بڑا سخت معاندانہ اور جارحانہ تنقیدی رویہ اختیار کئے رکھا۔لیکن ج پریس انٹر ویو ختم ہوا تو اس وقت تک ان کا رویہ بالکل تبدیل ہو چکا تھا۔پھر انہوں نے کہا کہ آپ کو شائد معلوم نہیں کہ یہاں مذہب پر لکھنے والے اخباری نمائندوں میں سب سے موثر اور سب سے زیادہ صاحب اثر میں ہوں اور جتنے بڑے بڑے اخبار ہیں ان سب کی نمائندگی مجھے حاصل ہے اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کی تائید میں لکھنا میں نے ضرور ہے اور جب میں لکھوں گا تو اخبار شائع بھی کریں گے۔جہاں تک ان کی پریس رپورٹنگ کا تعلق ہے جب انہوں نے مضمون شائع کیا تو اس میں کوئی بھی تیز بات نہیں تھی۔معلوم ہوتا ہے سو چتے سوچتے ان کا دل اتنا زیادہ قائل ہو گیا یا مائل ہو گیا کہ انہوں نے چر کے لگانے بھی بالکل چھوڑ دیئے۔جماعت کا بہت ہی عمدہ اور بڑے اچھے رنگ میں تعارف کروایا۔صرف یہی نہیں بلکہ وہ ہمارے سفیر بن گئے۔دوسرے اخباری نمائندوں کو مل مل کر انہوں نے بتانا شروع کیا کہ تم تو ایک چیز مس (MISS) کر رہے ہو۔اس موقعے سے فائدہ اٹھاؤ اور جا کر انٹر ویولو۔چنانچہ