تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 103 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 103

۱۰۳ آسٹریلیا سے متعلق کچھ باتیں اب جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا میں آسٹریلیا سے متعلق کچھ باتیں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔کیونکہ مجلس خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں میں نے نجی سے متعلق کچھ باتیں بیان کی تھیں اصل بات یہ ہے کہ انصار جماعت کا دماغ ہیں اور سب سے بالا حصہ ہیں اس لئے ان کی یہ حیثیت تو ہم کسی صورت میں بھلا نہیں سکتے جہاں تک میری محبت کا تعلق ہے وہ سب کے لئے برا بر ہے بڑھوں جوانوں بچوں سب کے لئے ایک جیسی ہے لیکن انصار کے مقام کے لحاظ سے ان کی اپنی ایک عظمت ہے جس کو خدا بھی نہیں بھلتا اُنہیں ایسی عظمت حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ بھی بوڑھوں اور جوانوں میں تفریق فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے بوڑھوں اور نو جوانوں کو ہمیشہ روحانی لحاظ سے بھی برابر کا جوان رکھے۔آسٹریلیا میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد کی بنیاد مشرق بعید کے سفر میں آسٹریلیا میں مسجد کی جو بنیا د رکھی گئی ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک غیر معمولی اہمیت یہ بھی حاصل ہے کہ جیسا کہ آپ سن چکے ہیں۔براعظم آسٹریلیا میں جماعت احمدیہ کی طرف سے بنائی جانے والی یہ پہلی مسجد کی بنیاد تھی۔جس کے ساتھ ایک مشن ہاؤس بھی انشاء اللہ تعمیر کیا جائے گا۔۔۔۔۳۰ ستمبر کو مسجد کا سنگ بنیا درکھا جانا تھا۔اس دن جب ہم وہاں گئے تو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ جماعت کی توقع کے مقابل پر حاضری بہت تھوڑی تھی۔چنانچہ تعجب تو ہوا لیکن مایوسی مجھے بالکل نہیں ہوئی کیونکہ اتفاق یا تصرف الہی کہنا چاہئیے اس مسجد کے سنگ بنیاد کے موقع پر میں نے جو مضمون تیار کیا تھا اس کی بنیادہی اس بات پر تھی کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک لق و دق صحرا میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی اسی طرح ہم آج یہاں مسجد کی بنیاد رکھیں گے۔اور اس یقین کے ساتھ رکھیں گے کہ یہ صحرا بھی خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ روحانی آبادیوں میں تبدیل ہو جائے گا وہ آج اہل آسٹریلیا اس بات سے غافل ہیں کہ یہاں ایک واقعہ ہورہا ہے لیکن کل کی نسلیں حسرت کے ساتھ یاد کیا کریں گی کہ کاش ہم ہوتے اور ہم اس تقریب میں شامل ہوتے۔بعض بین الاقوامی تنظیمیں جو گویا جماعت کی مخالفت کی خاطر بنائی گئی ہیں انہوں نے بڑا روپیہ خرچ کیا اور بڑی محنت کی۔۔۔کہ کوئی مسلمان اس تقریب میں شامل نہ ہو۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آدمی تھوڑے آئے یا زیادہ آئے تھے حقیقت یہ ہے کہ دل کی نیکی اور دل کا تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو اللہ کے حضور قبول۔۔۔۔