تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 102
ہوتا ہے۔اس وقت مدینہ مرکز تھا تو آپ نے فرمایا مدینہ ایک بھٹی کی طرح ہے۔جب اس میں لوہا پڑتا ہے تو خوب میتقل ہو جاتا ہے۔خوب چمک دمک دکھانے لگ جاتا ہے اور جب دیر تک باہر رہے تو وہ زنگ آلود ہو جاتا ہے۔اس لئے لوہے کو بار بار بھٹی میں پڑتے رہنا چاہئے۔انصار اللہ کا یہ اجتماع بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کا مظہر ثابت ہوا۔الحمد لله! اس دوران جب ہم یہ نظارہ کر رہے تھے تو دوسری طرف ربوہ کی آنکھ نے ایک اور نظارہ بھی دیکھا۔وہ بھی ایک اجتماع کا نظارہ تھا۔وہاں بھی یہی دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ خدا اور رسول کی محبت میں وہ لوگ اکٹھے ہوئے ہیں لیکن دونوں کی خدا اور رسول سے محبت کے اظہار میں بہت بڑا فرق تھا۔ایک طرف ما حول خدا اور رسول کی محبت میں حمد و ثناء اور سوز و گداز میں ڈوبا ہوا تھا تو دوسری طرف اتنی گندی گالیاں دی جا رہی تھیں اور ایسی فحش کلامی کی جارہی تھی کہ ایک شریف قوم کی طرف منسوب ہو کر بھی ایسی زبان استعمال نہیں کی جاسکتی۔چہ جائیکہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہو کر ایسا کیا جائے۔مگر بہر حال جیسا کہ قرآن کریم میں ہمیشہ کے لئے یہ رہنما اصول ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔كُلَّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِه (بنی اسرائیل : ۸۵) کوئی اس کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ہر ایک اپنی شاکلت کے مطابق عمل کرے گا اور اس کے مقدر میں جو لکھا جا چکا ہے اس سے وہ باہر نہیں جاسکتا۔بہر حال ربوہ کے آسمان نے یہ دو نظارے دیکھے اور میں یقین رکھتا ہوں۔اور میرا دل اس ایمان سے بھرا ہوا ہے کہ خدا کے فرشتے اس مجلس میں نازل ہو رہے تھے اور اُس مجلس میں نازل نہیں ہورہے تھے۔( حضور نے جس دوسرے اجتماع کا ذکر کیا ہے وہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ کا نفرنس کی بابت ہے جو انہی دنوں مسلم کالونی ربوہ میں منعقد ہوئی تھی۔مرتب ) پس انصار سے میں کہتا ہوں کہ جائیے اور ساری دنیا میں اپنی برکتیں پھیلا دیجئے۔اللہ کے فضل اور رحمت اور اس کی محبت سے سرشار ہو کر جائیے اور دنیا میں پھیل جائیے اور یقین رکھیئے کہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام ہی ہمیشہ سچا نکلتا ہے۔آپ کی یہ برکتیں یہیں ختم نہیں ہوں گی۔یہ آپ کے ساتھ سفر کریں گی یہ آپ کی زندگیوں کا جزو بن جائیں گی۔راتوں کو آپ کے ساتھ رہا کریں گی۔صبح کو آپ کے ساتھ اٹھا کریں گی۔جس گھر میں جائیں گے ، اللہ کی محبت کی برکت آپ کے ساتھ رہے گی۔اللہ کی محبت کا سایہ آپ کے سر پر دراز رہے گا اس لئے کہ آپ خدا کی حفاظت میں آچکے ہیں۔آپ کو دنیا کے کسی دشمن سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔